کلاؤڈ برسٹ کیا ہے، وادی نیلم میں اس نے کیسے تباہی مچائی؟

پیر کی شام پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع نیلم میں واقع سالخلہ نامی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے تباہی پھیل گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اچانک آنے والے اس سیلابی ریلے سے ایک خاتون اور ایک بچی زخمی ہوئی ہے جبکہ دو افراد قاری اکرم ضیاء اور ان کی اہلیہ تاحال لاپتا ہیں۔
اچانک آنے والے اس سیلابی ریلے میں 16 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ12  مکانات کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ متعدد مویشی ، گاڑیاں اور پھلدار درخت بھی اس سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے ہیں۔  
مزید پڑھیں
اس واقعے کے بعد  علاقے میں مسلسل بارش ، اندھیرے اور سیلابی ریلے کے تیز بہاؤ کی وجہ سے ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع نہیں ہو سکا تھا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) نے آٹھ جولائی کو ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں ہفتے کی شام سے بدھ تک موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی تھی اور عوام اور سیاحوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ سفر کی منصوبہ بندی موسم کی صورت حال دیکھ کر کریں۔

اچانک آنے والے اس سیلابی ریلے میں 16 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ (فوٹو: اختر ایوب)
سالخلہ گاؤں کے ایک رہائشی حماد عزیز قاسمی نے اس واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’گزشتہ شب سیلابی ریلا آنے سے قبل گرج چمک، شور اور دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد گاؤں میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ گھروں سے نکل کر اونچائی کی جانب بھاگنے لگے۔‘
حماد قاسمی نے بتایا کہ ’ جب دھماکے کی آواز آئی تو قاری اکرم ضیا کے گھر میں موجود ان کے بھتیجے ان کے بچوں کو لے کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اکرم ضیا بھی سیلابی ریلے سے بچ گئے تھے لیکن ان کی اہلیہ چلنے میں دشواری کی وجہ سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ جب اکرم ضیا اہلیہ کو بچانے کے لیے واپس گھر کی جانب پلٹے تو ان دونوں میاں بیوی کو سیلابی ریلا اپنے ساتھ بہا کر لے گیا اور ابھی تک ان کا پتا نہیں چل سکا ہے۔‘
ضلع نیلم کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے انچارج اختر ایوب نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس سیلابی ریلے میں کئی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور مویشی بہہ گئے ہیں اور لوگوں کی فصلیں اور پھلدار درخت تباہ ہو گئے ہیں۔‘

سیلاب میں کئی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور مویشی بہہ گئے ہیں۔ (فوٹو: اختر ایوب)
لاپتا افراد کے بارے میں اختر ایوب نے بتایا کہ ’ ہم نے منگل کی صبح یہاں سرچ آپریشن کیا ہے لیکن ابھی تک لاپتا ہو جانے والے افراد نہیں مل سکے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ برس وادی نیلم ہی کے علاقے لیسوا میں ایک بڑے کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور لگ بھگ  150 مکانات تباہ ہو گئے تھے۔

کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟

کسی خاص علاقے میں مختصر دورانیے کے لیے اچانک بہت زیادہ بارش کا ہونا جو بڑے طوفان یا سیلاب کا سبب بنے، کو کلاؤڈ برسٹ یا ’بادل کا پھٹنا‘ کہتے ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ سے پہلے فضا میں نچلی سطح پر موجود گرم ہوا تیزی سے اوپر کی جانب بڑھنا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بادلوں میں موجود بخارات پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ سے پہلے فضا میں نچلی سطح پر موجود گرم ہوا تیزی سے اوپر کی جانب بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ (فائل فوٹو: ان سپلیش)
یہ عمل اس قدر تیز ہوتا ہے کہ نئے بننے والے پانی کا بوجھ بادل سہار نہیں سکتا اور وہ ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے جس کے نتیجے میں موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔
عام طور پر کلاؤڈ برسٹ کے واقعات پہاڑی علاقوں میں پیش آتے رہتے ہیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں پاکستان کے شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔