کنٹونمنٹ بورڈکلفٹن کا اپنے علاقوں سے کچرا خود اٹھانے کافیصلہ

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) نے اپنے علاقوں سے خود کچرا اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میسرز این جے سی لمیٹڈ اور میسرز اے ایس بی لمیٹڈ کا تین دہائیوں سے جاری ٹھیکہ منسوخ کردیا۔

سی بی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ کچرا اٹھانے کیلئے ٹینڈر جاری نہیں کرے گا، یہ کام 1984ء سے آؤٹ سورس کیا جاتا رہا ہے۔ ہر ٹینڈر پر دو سال کیلئے ٹھیکا دیا جاتا تھا، جس کا انحصار کنٹریکٹرز کی بولی پرہوتا تھا۔ سی سی بی سی گزشتہ 36 سالوں سے یہ کام انہیں کنٹریکٹرز کو دے رہا تھا۔

سی بی سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن (جسے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں) نے بتایا کہ ٹھیکے دار اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کررہے تھے، انہیں اپنے کام میں بہتری لانے کیلئے مواقع دیئے گئے تاہم ایک سال گزرنے کے بعد سی بی سی نے خود ہی اس کام کو کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی بی سی ٹیمیں ڈی ایچ اے کی حدود میں دو شفٹوں صبح اور شام کے اوقات میں کچرا اٹھانے کا کام کریں گی۔

کنٹونمنٹ کا کام ڈی ایچ اے فیز ون سے 8 تک میں میونسپل سروسز بشمول برساتی پانی کی نکاسی و صفائی، پانی کی فراہمی اور کچرا جمع کرنا ہے۔ یہ لوگوں سے دیکھ بھال کی فیس لیتا ہے، جو بنگلے کی قیمت کا 4 فیصد ہوتی ہے۔

میسرز این جے سی لمیٹڈ کے آصف بٹ نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا فیصلہ کرنا مکمل طور پر کنٹونمنٹ پر منحصر ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی کمپنی 5 کروڑ روپے کے دو سالہ معاہدے کے تحت یہ کام کررہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ سی بی سی انتظامیہ کے پاس کچھ بہتر منصوبہ ہوتا۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ ان کی کمپنی اطمینان بخش کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تھی۔

پورے علاقے کی دیکھ بھال 110 گاڑیاں اور 1200 ملازمین کرتے تھے۔ آصف بٹ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کمپیکٹرز، لوڈرز، بوب کٹس، ڈمپرز اور ٹرالیاں ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ٹیمیں تقریباً 400 ٹن کچرا اٹھاتی اور اسے دیہہ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ پر منتقل کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے معاہدہ منسوخ کیا گیا ہے کریک ایونیو کا گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بھرا ہوا ہے، صفائی ستھرائی کی حالت ہر طرف ایک جیسی ہوتی جارہی ہے۔

سی بی سی کی ویب سائٹ غیر فعال ہے، جس کی وجہ سے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ وہ رہائشیوں سے سہولیات کی فراہمی کے بدلے کتنی دیکھ بھال فیس حاصل کرتے ہیں۔ سماء ڈیجیٹل کے رپورٹر نے جب فون پر سی بی سی سے اس حوالے سے دریافت کیا تو اسے کہا گیا کہ وہ آفس آکر اس حوالے سے تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹ ڈاؤن ہے اور ہم مینوئلی کام کررہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ عام طور پر کتنی فیس وصول کی جاتی ہے جس پر سی بی سی کے کارندے کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں کیونکہ سافٹ ویئر خراب ہے اور جن لوگوں سے وہ یہ معلومات حاصل کرسکتے تھے وہ ’’اندر‘‘ ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بدھ کو فیس کی ادائیگی کا آخری دن تھا۔ اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

متعلقہ خبریں