کوئٹہ: خواتین کیساتھ ناروا سلوک پرایڈیشنل ایس ایچ او اوراہلکارمعطل

کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کے خواتین کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ ایڈیشنل ایس ایچ او قائدآباد اور دیگر اہلکاروں نے خواتین کو دھکے دیئے اور زبردستی پولیس موبائل میں بٹھا کر ساتھ لے گئے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکارون کو معطل کردیا۔

کوئٹہ کے علاقے مشن روڈ پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین کو دھمکے دینے کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ قائد آباد تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ چوہدری نوید اور دیگر اہلکار خواتین کو زبردستی گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔

واقعے سے متعلق ایڈیشنل ایس ایچ چوہدری نوید نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکی کے والد خادم حسین نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی کہ ان کی بیٹی 10، 12 دن سے لاپتہ ہے اور مبینہ طور پر  اپنی سہلیوں کے ساتھ  رہ رہی ہے۔

پولیس نے والدین کی نشاندہی پر قائد آباد تھانے کی حددو میں شہر کے مصروف بازار مشن روڈ پر کارروائی کی اور لاپتہ لڑکی زینب اور اس کی دو سہیلیوں کو تھانے لے گئے، اس دوران لڑکی اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم پولیس زبردستی انہیں وین میں بٹھا کر ساتھ لے گئی۔

شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقید کی جارہی ہے کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے ہونے کے باوجود ایڈیشنل ایس ایچ او اور دیگر اہلکار خواتین کو دھکے دے رہے ہیں اور زبردستی وین میں بٹھایا جارہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدام بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں ناقابل برداشت ہیں، ملوث اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔

دوسری طرف غیرذمہ دارانہ رویے پر ڈی آئی جی کوئٹہ فدا حسین نے ایڈیشنل ایس ایچ او اور مذکورہ اہکاروں کو معطل کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

تازہ ترین

اسلام آباد: پولیس اوردہشتگردوں میں مقابلہ اہلکارشہید، 2ملزمان ہلاک
کوئٹہ: خواتین کیساتھ ناروا سلوک پرایڈیشنل ایس ایچ او اوراہلکارمعطل
مکار سیاستدانوں اورمافیاز نے اداروں کو بھی کرپٹ کردیا، وزیراعظم
ابوظہبی: مشتبہ ڈرون حملہ، ٹینکرزدھماکوں میں پاکستانی سمیت 3افراد ہلاک