کوئٹہ میں بیویوں اور بچوں میں ’تفریق‘ پر باپ بیٹے کے ہاتھوں قتل

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول حاجی محمد حسن کاروباری شخص تھا اس نے تین شادیاں کر رکھی تھیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

کوئٹہ میں پولیس نے باپ کے قتل کے الزام میں 18 سالہ بیٹے کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول نے تین شادیاں کر رکھی تھیں۔ ملزم نے بیویوں اور بچوں میں تفریق کرنے پر باپ کو قتل کیا۔
کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی شوکت جدون نے اردو نیوز کو بتایا کہ حاجی محمد حسن کو دو روز قبل کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد میں اپنے گھر کے قریب فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ ’انہیں سر اور سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں۔‘
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ اندھے قتل کا کیس تھا تاہم پولیس نے تفتیش کی تو اس کا 18 سالہ بیٹا سعید الرحمان مشکوک پایا گیا جسے پولیس نے حراست میں لیا۔
ڈی ایس پی کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے والد کو جائیدا د اور گھریلو تنازع پر قتل کیا۔
ملزم نے پولیس کودھوکا دینے کے لیے خود ہی دوسرے بھائی کے ساتھ مل کر لاش سول ہسپتال پہنچائی اور وہاں غم و غصہ ظاہر کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی کی۔
شوکت جدون نے بتایا کہ مقتول حاجی محمد حسن کاروباری شخص تھا اس نے تین شادیاں کر رکھی تھیں۔
قاتل بیٹا پہلی بیوی سے تھا اس نے دوران تفتیش بتایا کہ باپ بیویوں اور اس کی بچوں میں تفریق کرتا تھا  اور ان کی والدہ کا خیال نہیں رکھتا تھا۔
ملزم نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ باپ انہیں خرچ نہیں دیتا تھا۔
خیال رہے کہ کوئٹہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خونی رشتہ دار کے ہاتھوں قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 27 ستمبر کو ریلوے کالونی میں 17 سالہ نوجوان نے اپنے  آٹھ سے 24 سال کی عمر کے تین بھائیوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا اور قتل کی وجہ بڑے بھائیوں کی جانب سے روک ٹوک کو قرار دیا تھا۔