کوئٹہ میں طالبان کے حق میں ریلی ’اعلیٰ حکام کے لیے تشویش کا باعث‘

بلوچستان کے شہر چمن سے ملحقہ سرحدی راہداری پر افغان طالبان کے قبضے کے حق میں کوئٹہ میں نکالی گئی ریلی کی ویڈیوز جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو بحث کا موضوع بن گئیں۔
بعض صارفین نے ریلی میں شریک افراد کو افغان طالبان قرار دیتے ہوئے ان کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے پر تنقید کی ہے۔ تاہم جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی کا کہنا ہے کہ یہ ’ریلی بدھ کو ان کی جماعت کے کارکنوں نے طالبان کی افغانستان میں پے در پے فتوحات بالخصوص چمن سرحد کا کنٹرول حاصل کرنے کی خوشی میں نکالی۔‘
مزید پڑھیں
کوئٹہ کے نجم الدین روڈ سے نکالی گئی ریلی کے شرکا نے جناح روڈ، انسکمب روڈ اور زرغون روڈ جیسی اہم شاہراہوں کا بھی گشت کیا جہاں اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔
عبدالقادر لونی کے بقول ریلی میں شریک افراد افغان طالبان نہیں بلکہ پاکستانی اور ان کے جماعت کے کارکن تھے جنہوں نے افغان طالبان طرز کے سفید پرچم اٹھا رکھے تھے۔
واضح رہے کہ بدھ کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سب سے اہم سرحدی گزرگاہ سپین بولدک پر افغان طالبان نے قبضہ کر کے اپنا پرچم لہرایا جس کے بعد سے پاکستان نے پاک افغان سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دی ہے۔
طالبان کی پیش قدمی کے بعد چمن میں بھی ان کے حق میں ریلی نکالی گئی اور افغان سرحد تک جا کر ان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

ریلی کے شرکا نے جناح روڈ، انسکمب روڈ اور زرغون روڈ جیسی اہم شاہراہوں کا بھی گشت کیا۔ (فوٹو: جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کوئٹہ فیس بک)
جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے رہنما عبدالقادر لونی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ افغان طالبان 20 سال بعد دوبارہ افغانستان میں ابھر رہے ہیں۔‘
 ’سب سے زیادہ خوشی طالبان کی جانب سے چمن سرحدی راہداری کا کنٹرول حاصل کرنے کی ہوئی جس پر ہم نے کوئٹہ میں جشن منایا، ریلی نکالی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ آج جمعرات کو دوبارہ ریلی نکالی جائے گی۔’اب وہاں پاکستان کے دوست آ گئے ہیں تو ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔‘
خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام سے الگ ہونے والا دھڑا ہے۔
افغان طالبان کی کھلم کھلا حمایت کرنے والا یہ دھڑا سنہ 2007 میں صوبائی قیادت سے اختلافات کی بنا پر رکن قومی اسمبلی مولانا عصمت اللہ کی قیادت میں الگ ہوا تھا۔
سنہ 2008 کے انتخابات میں اس تنظیم نے قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ اگرچہ بعد میں مولانا عصمت اللہ واپس مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا حصہ بن گئے تاہم جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) نے اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔  
تاہم سوشل میڈیا پر رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت کئی صارفین نے افغان طالبان کے حق میں ریلی کے انعقاد پر تنقید کی ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’پشاور کے بعد کوئٹہ میں آزادانہ نقل و حرکت اور دن کی روشنی میں ریلیوں کا انعقاد پریشان کن ہے۔‘

صحافی باہوت بلوچ نے ریلی کی ویڈیو اس عنوان کے ساتھ شیئر کی کہ ’کوئٹہ میں افغان طالبان کے حق میں ریلی۔‘
مقبول جعفر نامی صارف نے اس حوالے سے لکھا کہ ‘طالبان کے حامی افراد کی کوئٹہ میں ریلی، یہ اعلیٰ حکام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔‘

چند روز قبل پشاور میں ایک ریلی کے دوران افغان طالبان کا پرچم لہرانے اور ان کے حق میں نعرے بازی کرنے پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار کیا جبکہ ایک مدرسہ بھی سیل کیا گیا۔
تاہم کوئٹہ میں پولیس یا ضلعی انتظامیہ نے اب تک اس معاملے کی بابت کچھ نہیں بتایا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ سے معلومات لینے کے بعد ہی اس معاملے پر تبصرہ کریں گے۔