کوئٹہ میں ’غیر قانونی‘ طور پر چلائے جانے والے چھ ایرانی سکول سیل

کوئٹہ میں حکام نےغیر قانونی طور پر چلائے جانے والے چھ ایرانی سکولوں کو سیل کردیا ہے۔
حکام کے مطابق محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کے دوران ان سکولوں سے ناقابل قبول لٹریچر بھی برآمد کیا۔
اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ (سٹی) محمد زوہیب الحق نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ اور اس سے ملحقہ علاقو ں میں اجازت کے بغیر چلنے والے ان سکولوں میں پاکستانی نصاب کے بجائے ایرانی نصاب پڑھایا جاتا تھا۔ ان تعلیمی اداروں کے سربراہان ایرانی ہیں جبکہ اساتذہ میں بھی غیرملکی باشندے شامل ہیں۔‘
مزید پڑھیں
بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن شبیر احمد کے مطابق ’ہمیں شکایات ملی تھیں کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر ایسے سکول چلائے جارہے ہیں، جہاں غیر ملکی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔‘
’تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ایسے سکولوں کی تعداد 10 ہے جن میں سے کرانی روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں واقع چھ سکولوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کردیا ہے جبکہ باقی چار سکولوں سے متعلق چھان بین کا عمل جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بند کیے گئے سکول گزشتہ تین دہائیوں سے چلائے جا رہے تھے۔ یہاں سینکڑوں پاکستانی طلبہ و طالبات کو فارسی زبان میں غیرملکی نصاب پڑھایا جاتا تھا جو غیر قانونی عمل ہے۔ ان سکولوں کا کسی پاکستانی  تعلیمی بورڈ سے کوئی الحاق بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے یہاں کے طلبہ پاکستانی بورڈز کے امتحانات دینے کے اہل نہیں تھے اورانہیں  کسی پاکستانی بورڈ سے ڈگری بھی نہیں ملتی تھی۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد زوہیب الحق نے بتایا کہ کارروائی کے دوران سکولوں سے ’ناقابل قبول‘ لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے جسے سکیورٹی اداروں نے اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ایم اینڈ ای شبیر احمد نے مزید بتایا کہ سیل کیے گئے سکول سنہ 1991 میں ایک ایم او یو کے تحت قائم ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کوئی رجسٹریشن کرائی اور نہ کوئی اجازت نامہ لیا۔
جبکہ اکتوبر 2015 میں بلوچستان اسمبلی کے منظورکردہ قانون کے تحت بلوچستان بھر میں نجی سکولوں کو بلوچستان پرائیوٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی (بی پی ای آئی آر آر اے ) کے پاس رجسٹر کرانا ضروری ہے۔

شبیر احمد کے مطابق بلوچستان میں غیرملکی سکول موجود ہیں مگر ان کا الحاق پاکستانی تعلیمی بورڈز سے ہے  (فوٹو: اے سی سٹی کوئٹہ) 
شبیر احمد نے بتایا ’ان سکولوں نے بھی اتھارٹی کے پاس رجسٹریشن کے لیے درخواستیں دی تھیں مگر نصاب سمیت دیگر شرائط پوری نہ کرنے پر ان کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کی گئی لیکن اس کے باوجود یہ سکول چلائے جارہے تھے۔‘
شبیر احمد کے مطابق ’سکول کے اساتذہ اور عملے میں ایرانی باشندے بھی شامل ہیں۔ انہیں شاید ہمسایہ ملک سے فنڈز بھی مل رہے تھے مگر ان سکولوں کے مالی معاملات کی چھان بین سکیورٹی ادارے کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سکول کے کچھ مقامی اساتذہ نے تنخواہیں نہ ملنے سے متعلق سٹیزن پورٹل پر شکایت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں غیرملکی سکول موجود ہیں مگر ان کا الحاق پاکستانی تعلیمی بورڈز سے ہے اور نصاب بھی پاکستانی ہی پڑھایا جاتا ہے۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وزیر کھیل بلوچستان عبدالخالق ہزارہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیل کیے گئے ایرانی سکولوں میں اکثریت ہزارہ قبیلے کے طلبہ پڑھتے ہیں جنہیں یہاں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے پاکستانی سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا اور امتحانات اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مجبوراً ہمسایہ ملک جانا پڑتا ہے۔
عبدالخالق ہزارہ نے سکولوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ کو نوکریاں بھی نہیں ملتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر سکولوں میں غیرملکی نصاب اور اس کے ذریعے بیرونی ثقافت کے فروغ کے بجائے ملکی نصاب ہی پڑھانا چاہیے۔