کوئٹہ میں نایاب نسل کے تیندوے کے جوڑے کا جلوہ ’تحفظ چیلنج ہو گا‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کئی دہائیوں بعد معدومی کے خطرے سے دو چار تیندوے کا ایک جوڑا دیکھا گیا ہے۔ 
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے حکام کے مطابق تیندوے کا یہ جوڑا نایاب اقسام میں سے ایک ‘پرشیئن لیپرڈ’ ہے اور اسے عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این نے 2016 میں معدومی کے خطرے سے دو چار جانوروں کی فہرست یعنی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔
چیف کنزرویٹر محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان شریف بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’تیندوے کے جوڑے کو کوئٹہ کے جنوب مغربی پہاڑی کوہ چلتن کے دامن میں واقع 27 ہزار ہیکٹر پر مشتمل چلتن نیشنل پارک ہزار گنجی میں پہلی مرتبہ چھ سے سات ماہ قبل دیکھا گیا تھا۔ تب سے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا عملہ اس کی تلاش میں تھا۔‘
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد ان کی ٹیم مئی کے پہلے ہفتے میں ایک تیندوے کی نقل و حرکت کو کیمرے میں محفوظ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 
چلتن نیشنل پارک کے منتظم ڈپٹی کنزویٹر نذیر احمد کرد نے بتایا کہ ’گذشتہ سال اکتوبر سے دسمبر کے سیزن میں چلتن پارک کی نگرانی پر مامور عملے کے ارکان نے کئی بار تیندوے اور ان کے پاؤں کے نشانات دیکھے تھے۔ اس کے بعد ہم نے اسے کیمرے کی مدد سے ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور چھ مئی کو علی الصبح ہم ایک تیندوے کی پہاڑی پر آرام کرتے ہوئے تصاویر لینے میں کامیاب ہوگئے۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل ان کی تصاویر لیں۔ ہمیں وہ ہرڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد صرف پانچ سے دس منٹ تک چلتے ہوئے نظر آیا۔ باقی سارا وقت جوڑا آرام کرتا رہا۔‘
ان کے مطابق تیندوا صحت مند حالت میں تھا، اس کے انداز سے اطمینان ظاہر ہو رہا تھا، یہ بات خوش آئند ہے کہ نیشنل پارک کے قدرتی ماحول میں اس کی نشونما ہورہی ہے۔

’پہلی مرتبہ سات ماہ قبل دیکھا گیا تھا۔ تب سے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا عملہ اس کی تلاش میں تھا‘ (فوٹو: جنگلی حیات)
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے کافی خوشی کا دن تھا ہم نے اس نسل کو کئی دہائیوں بعد دیکھا جس کا ایک زمانے میں ہمارے بزرگ ذکر کرتے تھے۔ مقامی براہوی میں زبان میں اسے خہلیغا، بلوچی میں پولنگ اور پشتو میں پڑانگ کہتے ہیں۔
چھوٹی ٹانگوں اور بھاری جسامت کے حامل اس جانور کی پیلے اور سنہری مائل بھوری رنگ کی کھال پر سیاہ دھبے ہوتے ہیں۔ یہ آبادی سے دور پہاڑیوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ یہ تیندوے آرمینیا، آذر بائیجان، ترکی، ترکمانستان، افغانستان میں بھی پائے جاتے ہیں مگر اس کا اصل مسکن ایران کو سمجھا جاتا ہے اسی لیے اسے پرشیئن لیپرڈ کہا جاتا ہے۔ 

محکمے کے کارکن کئی ماہ کی محنت کے بعد تیندوؤں کی تصویریں اور ویڈیوز بنانے میں کامیاب ہو ئے (فوٹو: وائلڈ لائف)
شریف بلوچ کے مطابق بلوچستان میں کوہ چلتن اور کیرتھر سندھ اس کا مسکن تھا مگر شکار، خوراک کی کمی، جنگلات کی کٹائی، انسانی آبادیوں کے قریب آنے سے اس کا یہ مسکن ختم ہوتا گیا۔ 2011 میں ایران کے قریب مکران میں تیندوے کے شکار کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد سکھر کے قریب اور پھر لسبیلہ میں واقع ہنگول نیشنل پارک میں بھی اس کی موجودگی رپورٹ ہوئی مگر تصویروں کے ساتھ پہلی مرتبہ اس کی موجودگی کی تصدیق ابھی کوئٹہ میں کی گئی ہے۔ 
چیف کنزویٹر شریف بلوچ کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی میں قائم ہونے والا چلتن نیشنل پارک ہزارگنجی 27 ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہے۔ اس کا کچھ حصہ کوئٹہ اور زیادہ تر مستونگ میں واقع ہے۔ یہاں انواع و اقسام کے جانور اور پرندے پائے جاتے ہیں مگریہاں کی سب سے بڑی خاصیت چلتن وائٹ گوٹ یا چلتن مارخور کی موجودگی سمجھی جاتی ہے جو دنیا میں صرف یہی پایا جاتا ہے۔

اس نسل کو مقامی براہوی میں زبان میں اسے خہلیغا، بلوچی میں پولنگ اور پشتو میں پڑانگ کہتے ہیں (فوٹو: وائلڈ لائف)
ان کے بقول علاقے کے لوگوں کے تعاون، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کوششوں اور پارک میں تعینات اہلکاروں کی محنت سے چلتن نیشنل پارک میں چلتن مارخوروں کی تعدادا ب 1500 سے1800 تک پہنچ چکی ہے۔
چلتن نیشنل پارک کے منتظم نذیر احمد کرد نے بتایا کہ ’تیندوے اپنی خوراک کے لیے دوسرے جانوروں بالخصوص پہاڑی بکروں اور مارخوروں کا شکار کرتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ چلتن نیشنل پارک میں تیندوے کے شکار کے لیے مارخوروں کی شکل میں وافر مقدار میں خوراک موجود ہے۔ شکاری تیندووں کی موجودگی مارخوروں کو چست رکھنے، ان کی آبادی کو کنٹرول کرنے، قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع میں توازن پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔‘
جنگلی حیات کے تحفظ کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سندھ اور بلوچستان کے سربراہ طاہر رشید نے جوڑے کی دریافت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تیندوے کا تحفظ سب سے بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ اسے شکاریوں اور قریبی انسانی آبادیوں سے خطرات درپیش ہیں۔‘

طاہر رشید کا کہنا تھا ’جوڑے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق کی بھی ضرورت ہے‘ (فوٹو: وائلڈ لائف)
’چلتن نیشنل پارک کے قریب آبادیاں بڑھ رہی ہیں۔ پارک کے ایک بڑے حصے پر کوئی باڑ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ کبھی بھی آبادیوں کی طرف جا سکتا ہے۔ اس لیے قریبی علاقوں کے عمائدین کو اعتماد میں لے کر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔‘
طاہر رشید کا کہنا تھا کہ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ جوڑا کہاں سے ہجرت کرکے آیا ہے اور کب سے مقیم ہے۔ کیا یہ جوڑا ہے یا یا دونوں ایک ہی جنس سے ہیں۔ نگرانی کے ساتھ ساتھ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
شریف بلوچ نے بتایا کہ ’ہمارے ہاں فرسودہ روایات کے مطابق شیر اور چیتوں جیسے خطرناک جانوروں کا شکار کرنے والوں کو بہادر سمجھا جاتا ہے اس لیے ان کی نسل کو خطرات لاحق ہیں۔ ہماری لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ان نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے ہماری مدد کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تیندووں تحفظ کے لیے ہمیں مزید افرادی قوت اور وسائل کی ضرورت ہے۔ پارک میں اس وقت فیلڈ سٹاف کی تعداد صرف 35 ہے۔ 22 آسامیاں خالی ہیں۔ ہم حکومت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی اداروں سے بھی اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔