کوئٹہ میں پانچ ماہ قبل لاپتا ہونے والے اے این پی کے رہنما کی نعش برآمد

اسد خان اچکزئی گذشتہ برس 25 ستمبر کو کوئٹہ سے اغوا ہوئے تھے (فوٹو: اردو نیوز)

کوئٹہ میں پانچ ماہ قبل عوامی نیشنل پارٹی کے لاپتا ہونے والے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی نعش سنیچر کو برآمد ہو گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ’اسد خان اچکزئی کی نعش کوئٹہ سے گرفتار ہونے والے ملزم کی نشاندہی پر نواحی علاقے نوحصار سے برآمد ہوئی ہے۔‘
ایس ایچ او تھانہ ایئرپورٹ کوئٹہ نے بتایا کہ ’اسد خان اچکزئی پانچ ماہ قبل کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ روڈ سے لاپتا ہوئے تھے۔‘
اسد خان اچکزئی اے این پی کے صوبائی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔
مزید پڑھیں
مقتول کے اہل خانہ اور اے این پی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا اور انہوں نے اس حوالے سے ایک مقدمہ بھی درج کرایا تھا، تاہم ایس ایچ او کے مطابق ’اسد خان اچکزئی اغوا نہیں ہوئے تھے۔‘
ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ مخبر کی اطلاع پر گرفتار ہونے والے ملزم نے بتایا کہ ’انہوں نے اسد خان اچکزئی کو گاڑی چھیننے میں مزاحمت پر قتل کر کے ان کی نعش کوئٹہ سے 25 کلومیٹر دور نوحصار کے علاقے کے ایک کنوئیں میں پھینک دی تھی۔‘
پولیس نے گرفتار ملزم کی نشاندہی کے بعد اسد خان اچکزئی کی نعش برآمد کر لی ہے۔
یاد رہے کہ اسد خان اچکزئی گذشتہ برس 25 ستمبر کو اغوا ہوئے تھے۔
ان کے بھائی سپریم کورٹ کے وکیل امجد خان اچکزئی ایڈووکیٹ نے اردو نیوز کو ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ ’اسد اچکزئی جمعہ 25 ستمبر کو چمن سے اپنی گاڑی میں اکیلے کوئٹہ کے لیے نکلے تھے۔ ان کا گھر والوں سے آخری رابطہ جمعے کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے ہوا تھا۔‘
’اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کوئٹہ میں کچلاک کے قریب ہیں مگر اس کے بعد سے ان کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔ وہ گذشتہ تین روز سے گاڑی سمیت لاپتا ہیں۔‘