کوئٹہ میں گاڑی نہ روکنے پر نوجوان کی ہلاکت، چار پولیس اہلکار گرفتار

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کر کے نوجوان کو ہلاک کرنے والے چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ 
فائرنگ کا یہ واقعہ بدھ کی شب کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ایک نجی بس ٹرمینل کے قریب پیش آیا تھا۔
مقتول کے لواحقین نے سڑک بند کرکے احتجاج کرکے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
ایس ایچ او سریاب خیر محمد کے مطابق کوئٹہ کے علاقے جتک سٹاپ کے رہائشی دو نوجوان فیضان جتک اور شہزاد جتک گاڑی میں جناح ٹاؤن سے گھر کی طرف جا رہے تھے۔ 
مزید پڑھیں
زرغون روڈ پر امداد چوک کے قریب پولیس کے ایگل سکواڈ میں شامل اہلکاروں نے گاڑی کو مشتبہ سمجھ کر رکنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی رکی نہیں۔ جس کے بعد ایگل سکواڈ کے اہلکاروں نے گاڑی کا پیچھا کیا۔
ایس ایچ او کے مطابق گاڑی روکنے کے لیے کی گئی فائرنگ سے 20 سالہ فیضان جتک ہلاک اور اس کا کزن شہزاد جتک زخمی ہوگیا۔ 
لاش اور زخمی کو سول ہسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس سرجن کے اسسٹنٹ عطاء اللہ نے بتایا ’مقتول نوجوان کو گردن میں ایک گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی جبکہ زخمی کو ٹانگ میں گولی لگی ہے۔‘
واقعہ کے بعد مقتول کے لواحقین نے سریاب روڈ بند کرکے احتجاج کیا۔
مقتول کے رشتہ دار اسحاق جتک نے بتایا کہ ’پولیس کا ایگل سکواڈ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا مگر اس کے اہلکار آئے روز ناکے لگا کرعام  شہریوں تنگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کے اشاروں پر اب رکتے بھی نہیں۔‘
انہوں نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا۔

چار سو پولیس کمانڈوز پر مشتمل ایگل سکواڈ کو تین سال قبل کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے  تعینات کیا گیا تھا: فوٹو اے ایف پی 
لواحقین کے احتجاج کے بعد سریاب پولیس تھانہ میں ایگل سکواڈ کے چار اہلکاروں کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں اہلکاروں کو حراست میں لے کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ چار سو پولیس کمانڈوز پر مشتمل ایگل سکواڈ کو تین سال قبل کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ اس سکواڈ میں شامل اہلکار موٹرسائیکلوں پر شہر میں گشت اور ناکے لگا کر چیکنگ کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور صوبائی وزیرداخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔