کوئی مائنس ون کی بات کرےگا توزبان کھینچ لوں گا،واوڈا

رہنما تحریک انصاف فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ شاہ محمودقریشی ایک صاف اور شفاف انسان ہیں جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اصولوں کی بنیاد پر استعفی دیا تھا لیکن میں اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ اگر کوئی مائنس عمران خان کا سوچے یا بولے گا تو میں اس کی زبان کھینچ لوں گا۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بدھ کو قومی اسمبلی والے خطاب سے ملک کا نام روشن ہوا ہے اور تمام پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کوئی کیوں اس طرح کا موقف نہیں لے سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے بیرون ملک جائیدادیں نہیں ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کبھی بھی امریکا کے خلاف کسی مشترکہ اعلامیے کا حصہ نہیں بنے گگ کیوں کہ یہ مغرب کی ناراضگی مول نہیں لے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اہم ترین اجلاس سے بھی اپوزیشن لیڈر غیرحاضر رہے کیوں کہ انہیں ملکی مفاد کی باتوں میں دلچسپی نہیں ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو الیکشن اصلاحات کے لیے دعوت دی ہے وہ چاہے تو ہمیں تجاویز دے سکتی ہے لیکن ہم اصلاحات کرکے رہیں گے کیوں کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم الیکشن میں 70 سال سے ٹھپے لگنے والے عمل کو آئندہ بھی ہونے دیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بھوک کا علاج بھاشن نہیں اور نہ سفارتکاری کا علاج للکار ہے۔
خرم دستگیر نے عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک کے مفاد کی بات کرے گا تو ہم سپورٹ کریں گے مگر یہ وہی وزیراعظم ہیں جو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں تمام اقدامات پر خاموش تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ ڈکٹیٹر کے وقت میں کیا گیا تھا جہموری دور میں نہیں اور ہمیں یہ پتہ چلنے میں 11 سال لگے کہ امریکا کو اڈے بھی دیے گئے تھے۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آج یہ تو کہا کہ ہم بھارت سے مذاکرات نہیں کریں گے مگر عسکری سطح پر بھارت سے مذاکرات جاری ہیں جس کے نتیجے میں کنٹرول لائن پر سیزفائر ہوا تھا۔
الیکشن اصلاحات کے حوالے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے کمیٹی میں اور اس کے بعد قومی اسمبلی میں قانون کو بلڈوز کرکے بل پاس کیا ہے جس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں اور اگر عمران خان سنجیدہ ہیں تو اسپیکر کی بنائی گئی کمیٹی میں تشریف لا کر ہم سے بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ کل کے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شہبازشریف تجویز دیں گے لہٰذا کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر اس میں قومی سلامتی معاملات سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے۔

متعلقہ خبریں