کورونا سے تباہی مودی کی ’سیاسی قسمت‘ پر کس قدر اثرانداز ہو سکتی ہے؟

اگرچہ اس وقت انڈیا بری طرح کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے، لاکھوں لوگ انفکیشن کا شکار ہیں، تین لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں لیکن یہ وائرس وزیراعظم نریندر مودی کی ’سیاسی قسمت‘ پر بہت کم اثرانداز ہوتا نظر آ رہا ہے۔
:اے ایف پی کے مطابق اس کی وجوہات کچھ یوں ہیں

صورت حال کس حد تک خراب ہے؟

کیسز بہت بڑھ جانے کے باعث کئی علاقوں میں صحت کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی تعداد سرکاری طور پر بتائے جانے والے اعداد و شمار سے تین سے چار گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
سینکڑوں لاشوں کو دریاؤں میں ڈالا گیا یا پھر کم گہری قبروں میں دفن کیا گیا، بمشکل تین فیصد لوگوں کو ویکسین فراہم ہوئی ہے۔

حکومت مطمئن تھی؟

رواں سال کے آغاز میں ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ 28 جنوری کو وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ انڈیا نے صورت حال کو کنٹرول کر کے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا ہے۔
انتخابات کے لیے سیاسی ریلیوں کے علاوہ مذہبی اجتماعات بھی ہوتے رہے جن میں کمبھ میلہ بھی شامل تھے، جس میں لاکھوں کی تعداد میں زائرین نے شرکت کی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام نے دوسری لہر کے لیے بہت کم تیاری کی، فیلڈ ہسپتال ختم کر دیے گئے اور آکسیجن کی پیداوار کو نہیں بڑھایا گیا۔

مودی کی مقبولیت کم ہوئی؟

حالیہ دنوں میں ہونے والے دو سرویز، ٹوئٹر ہیش ٹیگ ریزائن مودی اور کہنے سننے کی حد تک تو ایسا ہی ہے۔
جبکہ بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ انڈیا کی پارلیمنٹ میں اصلاح کے ایک عظیم منصوبے پر کام جاری ہے۔
 طالب علم آئندریلا گھوش کا کہنا ہے کہ ’گنگا کے پانی میں لاشیں تیر رہی ہیں، حکومت اس (منصوبے) کو کیوں لوگوں کی صحت اور تحفظ سے بڑھ کر ترجیح دے رہی ہے۔‘
اسی طرح مودی کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ حامی بھی خوش دکھائی نہیں دے رہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک انڈیا میں تین لاکھ اموات ہو چکی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
اڑتیس سالہ امیت نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حکومت نے کورونا کی دوسری لہر کے لیے منصوبہ بندی نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی۔

مودی نے صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا؟

سوشل میڈیا آرمی کی مدد سے ایسا کیا گیا، اور ریاستی حکومتوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مودی کی جانب سے بار بار دیے جانے والے احکامات کو نظرانداز کیا۔
اسی ہفتے بی جے پی کی جانب سے ایک ’ٹول کٹ‘ سامنے لائی گئی ہے جو اس کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے بنائی اور جھوٹی خبروں پھیلانے کے لیے استعمال ہوئی۔
کانگریس کی جانب سے اس کو بوگس قرار دیا گیا ہے۔

صورت حال مودی کو کس حد تک متاثر کرے گی؟

بی جے پی مغربی بنگال کا ریاستی الیکشن جیتنے میں ناکام رہی جبکہ اترپردیش کے بعض حلقوں میں بھی اس کی کارکردگی انتہائی بری رہی۔

حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے دوسری لہر کے لیے بہت کم تیاری کی (فوٹو: روئٹرز)
کچھ لوگوں نے اس کو حکومت کی جانب سے وبا کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات سے جوڑا ہے۔
مگر اس کے باوجود مقامی معاملات ان انتخابات سے بڑھ کر تھے، اور بی جے نے پی مغربی بنگال کی ریاست ہارنے کے باوجود بھی آسام اور پدوچیری میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔
قومی سطح پر حقیقی حریف کانگریس اس وقت کمزور ہے اور اگلے عام انتخابات 2024 تک طے شدہ نہیں ہیں۔
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے کنچن گپتا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب ایک بار ابتدائی غصہ ختم ہو جائے تو لوگ معاملات کو زیادہ عقلی انداز سے دیکھنا شروع کر دیں ہے۔‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وبا کی وجہ سے بی جے پی اور مودی کی سیاسی حیثیت پر زیادہ فرق نہیں پڑا (فوٹو: اے ایف پی)
ولسن سینٹر سے وابستہ مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ ’جلد ہی سب کچھ بھلا دیا جائے گا، چاہے وبا مزید لمبی ہو جائے۔‘
ان کے مطابق ’وبا سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لگ ایسا رہا ہے کہ مودی اگلے الیکشن میں بھرپور طریقے سے جائیں گے۔‘
انڈین ایکسپریس کے کنٹری بیوٹر پرتاب مہتا کو ایسا نہیں لگتا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’بحران بیشتر لوگوں کی ذات کا ہے، یہ کوئی تجریدی بحران نہیں، یہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں خود ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔‘