کورونا ملازمتوں کے لیے عالمی معاشی بحران سے زیادہ بدتر ثابت ہوا: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کوڈ 19 کا اثر ملازمتوں پر 2008 کے معاشی بحران سے چار گنا زیادہ برا ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کا ملازمتوں اور کام پر تباہ کن اثر ہوا ہے۔
پیر کو آئی ایل او کی انٹرنیشنل لیبر کانفرنس کا آغاز ہوا جو کہ پہلی مرتبہ آن لائن ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے رائیڈر کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران کام کرنے کا تجربہ بعض افراد کے لیے مشکلات، تھکاوٹ، تناؤ اور فرسٹریشن کا باعث رہا ہے لیکن دوسروں کے لیے یہ خوف، غربت اور زندہ رہنے کے حوالے سے تھا۔
آئی ایل او کی سالانہ ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آوٹ لک رپورٹ کے مطابق وبا نے دنیا بھر میں 10 کروڑ کارکنان کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے کام کا دورانیہ کم ہوا ہے اور اچھی ملازمتوں تک رسائی بہت کم رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بے روزگاری 2022 میں 20 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کر سکتی ہے جب کہ 2019 میں  یہ تعداد 18 کروڑ سے زائد تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملازمتیں وبا سے پہلے کی سطح پر 2023 سے قبل آنے کی امید نہیں ہے۔  رائیڈر کا کہنا تھا کہ ‘اگر ان تمام اثرات  کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ 2008 اور 2009 کے معاشی بحران سے چار گنا زیادہ شدید ہیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کا اثر کام اور ملازمتوں پر تباہ کن ہوا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
آئی ایل او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جس طرح نظام صحت وبا سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھا اسی طرح ملازمتوں کا سیکٹر بھی بالکل اس بحران کے لیے تیار نہیں تھا۔
‘ویکسین کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر عدم مساوات اور غیر مساوی ڈیجیٹل رابطہ کاری سمیت مختلف مالی معاملات ملازمتوں کے حوالے سے مزید مسائل کو جنم دیں گے۔‘
آئی ایل او کا قیام 1919 عمل میں آیا تھا جس کے ممبر ممالک کی تعداد اب 187 ہوگئی ہے۔ گزشتہ سال تنظیم کی سالانہ کانفرنس کورونا وبا کے باعث منعقد نہیں ہوئی تھی۔