کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ نے کیسے تباہی پھیلائی؟

دنیا بھر میں انڈیا میں رواں ماہ کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئی دہلی اور ممبئی میں مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستر، آکسیجن اور ادوایات کی قلت کا سامنا تھا۔
سائنسدان اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کس چیز سے کیسز میں غیر متوقع اضافہ ہوا اور آیا انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کیسز میں اضافے کا ذمہ دار تو نہیں۔
مزید پڑھیں
کورونا وائرس کی نئی قسم بی ون 617 انڈیا سمیت 17 ممالک میں رپورٹ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

کورونا کی انڈین قسم

انڈیا میں وائرولجسٹ شاہد جمیل کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی نئی قسم بی ون 617 کے بیرونی سپائیک میں دو اہم میوٹیشن شامل ہیں جو انسانی خلیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ انڈیا میں بی ون 617 کی موجودہ قسم پہلے دسمبر میں شناخت ہوئی لیکن اس سے قبل کی قسم اکتوبر 2020 میں دیکھی گئی۔
دس مئی کو اس کی درجہ بندی ’قابل تشویش قسم‘ کے طور پر کی گئی۔ اس میں برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کے کورونا وائرس کی قسمیں بھی شامل ہیں۔
کچھ ابتدائی مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ انڈین ویریئنٹ کی قسم زیادہ آسانی سے پھیلتی ہے۔

گذشتہ ایک مہینے میں انڈیا میں کورونا وائرس سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ (فوٹو: روئٹرز)
عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار ماریہ وان کرخوف کا کہنا ہے کہ انڈین ویریئنٹ سے متعلق مزید معلومات اور یہ بات جاننے کی ضرورت ہے کہ اس ویریئنٹ کا کتنا حصہ پھیل رہا ہے۔

کیا کورونا وائرس کی نئی قسمیں کیسز میں اضافے کی وجہ؟

یہ کہنا مشکل ہے کہ نئی قسمیں کیسز میں اضافے کی وجہ ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق لیبارٹری میں محدود سائز کے نمونے پر تحقیق میں بڑھتا ہوا پھیلاؤ سامنے آیا ہے۔
نیشنل سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول کے ڈائریکٹر سجیت کمار سنگھ کے مطابق یہ معاملہ پیچیدہ ہے کیونکہ بہت زیادہ پھیلنے والی وائرس کی قسم بی 117 پہلی بار برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی، انڈیا کے کئی علاقوں میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیچھے بھی یہی قسم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈین وائرس ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست مہاراشٹر میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔
دوسری جناب حالیہ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر سیاسی ریلیوں اور مذہبی تہواروں کی اجازت دینے پر وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی گئی ہے۔ ان اجتماعات کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ میں شدید تیزی آئی ہے۔

انڈیا نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مقامی سطح پر ویکیسین تیار کیے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

کیا ویکسین کورونا کی نئی قسموں کا پھیلاؤ روک سکتی ہے؟

امریکی وائٹ ہاؤس کے چیف میڈیکل ایڈوائزر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ میڈیکل لیب کے ابتدائی شواہد سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انڈین ویکسین کوویکسین بظاہر کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف موثر ہے۔
انگلینڈ کی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے تاہم ابھی تک یہ ثبوت نہیں مل سکا کہ انڈین ویریئنٹ اور اس سے متعلق دو دیگر ویریئنٹ بیماری کو شدید کرنے کا سبب ہے یا وبا کے لیے لگائی جانے والی ویکسین غیرموثر ہے۔