کورونا وائرس کے چین کی لیبارٹری سے پھیلنے کا مفروضہ ’بہت حد تک درست‘

امریکہ کی سرکاری نیشنل لیبارٹری کورونا وائرس کی ابتدا کے حوالے سے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وائرس کے ووہان میں چین کی لیبارٹری سے پھیلنے کا مفروضہ بہت حد تک درست ہے اور اس پر مزید تحقیقات ہونی چاہییں۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری کی جانب سے مئی 2020 میں کیلیفورنیا میں تحقیق کی گئی جسے بعد میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھیجا گیا جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے آخری مہینوں کے دوران وبا کی ابتدا کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
لارنس لیورمور نے کووڈ 19 وائرس کا جینومک تجزیہ کیا ہے تاہم اس لیبارٹری نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر اپنا موقف دینے سے انکار کیا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ مہینے کہا تھا کہ انہوں نے ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ وائرس کی ابتدا کے سوال کا جواب تلاش کریں۔
جو بائیدن نے بتایا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس وقت دو نظریوں پر غور کر رہی ہیں کہ وائرس یا تو لیبارٹری سے حادثاتی طور پر خارج ہوا ہے یا یہ متاثرہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے تاہم ایجنسیاں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں۔

جو بائیڈن نے گذشتہ مہینے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ وائرس کی ابتدا کے سوال کا جواب تلاش کریں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ گردش کر رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چین کے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کے تین محققین نومبر 2019 میں اتنے بیمار ہو گئے تھے کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
امریکی حکام نے چین پر وائرس کی ابتدا کے حوالے سے غیرجانبدار نہ رہنے کا الزام عائد کیا تھا لیکن بیجنگ اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار مائیک ریان نے پیر کو کہا تھا کہ ’ڈبلیو ایچ او چین کو کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق مزید معلومات افشا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔‘
رواں ماہ کے اوائل میں امریکہ کے متعددی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوکی نے چین کو ان نو افراد کا طبی ریکارڈ مہیا کرنے کا کہا تھا جن کے مرض سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا کورونا وائرس لیب سے خارج ہونے کے نتیجے میں ہی پہلی بار سامنے آیا۔