کورونا کی بدترین صورتحال، غیر ملکی سفارت کار انڈیا چھوڑنے لگے

نئی دہلی میں متعدد سفارت خانوں نے اپنے سٹاف کو ایڈوائزریاں جاری کرتے ہوئے انڈیا چھوڑنے کا آپشن دیا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا پورے ملک میں پھیل رہی ہے جس کی رفتار کم ہونے کے آثار نہیں ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اپریل کے آخر سے انڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر دنیا کے سب سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز سنیچر کو کورونا وائرس کے چار لاکھ سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ چار ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی سمیت سات انڈین ریاستوں میں کورونا کی مثبت شرح 30 فیصد سے زیادہ ہے۔
چونکہ ملک کو بستروں اور آکسیجن کی رسد کی قلت کا سامنا ہے اور متعدد غیر ملکی مشنز مہں مقامی وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے، اس لیے سٹاف کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکہ، جرمنی اور پولینڈ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ انہوں نے کورونا وائرس میں اضافے کی وجہ سے اپنے سرکاری ملازمین کی انڈیا سے رضاکارانہ طور پر روانگی کی منظوری دی ہے۔

ہسپتالوں میں مریضوں کو بستر دستیاب نہیں ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے سنیچر کو کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے سے منسلک دو سو سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ بھی ملک سے طبی انخلا کر رہا ہے۔
اس حوالے سے سفارت خانے کے ترجمان نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشن صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنے ملازمین کی صحت و بہبود کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، بشمول ویکسین کی پیشکش کے۔‘
رازداری کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے سفارت خانے میں وائرس کے پھیلاؤ اور انخلا کے عمل پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔
دریں اثنا جرمنی نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سفارت خانے کے عملے کے متعدد ارکان وطن واپس چلے گئے ہیں۔

سنیچر کو چار لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی عرب نیوز کو ایک تحریری بیان میں بتایا کہ اس نے ’نئی دہلی میں جمہوریہ پولینڈ کے سفارت خانے کے ملازمین کو پولینڈ واپس جانے کا آپشن دیا ہے۔‘
یہ بیان گذشتہ ہفتے پولش میڈیا کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ نئی دہلی میں ایک سینیئر سفارت کار کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد انہیں واپس وارسا لے جا کر ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے سفارتخانے نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کے دو ’وائرس سے متاثرہ عملے کے ارکان‘ سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ لیکن ملک کے سفیر  ڈاکٹر رالف ہیکنر نے کہا ہے کہ یہ دونوں کارکن ’بحران کے آغاز سے ہی‘ گھر میں موجود تھے اور عملے کے ارکان انڈیا میں ملک کے کسی بھی مشنز سے واپس نہیں جا رہے۔
تاہم فرانسیسی سفارت خانے نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا ان کے عملے کو طبی انخلا کا کوئی مشورہ ملا تھا۔