کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب سے لے لیا گیا

فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم دے دیا، جب کہ پرناب مندر کی بحالی اور سیکیورٹی کے احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی اگلی سماعت پر طلب کرلی۔

سپریم کورٹ میں 15 فروری بروز پیر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر چیف سیکریٹری پنجاب کی عدم پیشی پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سیکریٹری خود آئے نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ چیف سیکریٹری کابینہ میٹنگ کی وجہ سے مصروف ہیں، اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ عدالتی نوٹس ملتے ہی کابینہ میٹنگ کیوں رکھی گئی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پرناب مندر کے حوالے سے خط لکھ کر کون سا تیر مارا ہے؟ یہ کلرک کا کام ہے، سیکریٹری کا کام عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری سے استفسار کیا کہ پرناب مندر کی سیکیورٹی کے اقدامات کے متعلق کیا پیش رفت ہوئی؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پرناب مندر میں ہولی 26 مارچ کو منانے کا کہا گیا اور 26 مارچ کو اپوزیشن نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی میں مسائل ہو سکتے ہیں۔

کرک واقعہ پر عدالت نے استفسار کیا کہ کرک واقعہ کے ملزمان سے ریکوری ہوئی؟۔ عدالتی سوال پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا ریکوری کی رقم کا تعین کر رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن بولے ویڈیوز میں نظرآنے والے حملہ آوروں سے وصولیاں کریں۔

سپریم کورٹ نے پرناب مندر کی بحالی اور سیکیورٹی کے احکامات پر 2 ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ مانگ لی اور کٹاس راج مندر کمپلیکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے اور حکومت اس کام کو 2 ہفتوں میں یقینی بنائے۔

کیس کی سماعت کے دوران رمیش کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرک واقعے سے پہلے سمادھی پر 3 کروڑ 80 لاکھ خرچ کیے، متروکہ وقف املاک بورڈ نے خرچ شدہ رقم واپس نہیں کی، عدالت نے رمیش کمار سے کرک سمادھی پر خرچ رقم کا ریکارڈ مانگ لیا۔

متعلقہ خبریں