کچی شراب پینےکےجان لیوا نقصانات اور اس کا علاج

ہر ماہ کچی شراب پینے سے کئی افراد کے جان سے چلے جانے کی خبریں شہ سرخیوں میں آتی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کراچی میں 2 ہفتے قبل کچی شراب پینے سے ابراہیم حیدری میں 2 مچھیرے انتقال کرگئےتھےاور 5 مچھیروں کی حالت غیر ہونے کے باعث ان کا جناح اسپتال میں علاج کیا گیا۔

دیسی یا کچی شراب غیر ملکی شراب سے زیادہ مہلک ہوتی ہے کیوں کہ اس کی تیاری میں صفائی اور ڈسٹیلیشن کے مرحلے کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔اگر ڈسٹیلیشن کا طریقہ کار اور صاف آلات استعمال نہیں کئے جاتے تو شراب میں انتہائی مضر صحت اجزا شامل ہوجاتے ہیں جن میں فوسل الکحل اور لیڈ کی خطرناک حد تک شرح شامل ہے۔ ایسے طریقہ کار سے شراب میں مینتھول کی مقدار بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔

ڈی نیچرڈ الکحل کو میتھائیلیڈ اسپرٹ بھی کہا جاتا ہے۔اس میں شامل ایتھانول سے یہ زہریلا، بدبودار اور ذائقہ میں بدمزہ ہوتا ہے۔ اس میں زیادہ مقدار میں 10 فیصد میتھانول شامل ہوتا ہے جس کے باعث اس کو میتھائلیڈ اسپرٹ بھی کہا جاتا ہے۔ شراب پینے کے شوقین کم آمدنی والے افراد اس کو زیادہ تر پیتے ہیں۔ اس کو فروخت کرنے والے اس میں پانی یا کھانسی کا شربت ملا کر اس کو بیچتےہیں۔

پاکستان میں اقلیتوں کے لیے شراب کا قانونی کوٹہ مختص ہوتا ہے۔ ان میں سے کئی شراب بیچتے ہیں اور اس میں میتھائیلیڈ اسپرٹ ملا دیتے ہیں۔ یہ شراب کی پہلی قسم سےزیادہ مہنگی ہوتی ہے۔

گھر میں شراب کشید کرنے کے مقامی اور پرانے طریقہ کار بھی ہوتے ہیں۔اس طریقہ کار میں شراب میں ایتھانول کی مقدار برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس شراب کی زیادہ مقدار پینے سے موت واقع ہوسکتی ہے کیوں کہ اس میں ایتھانول زیادہ ہوتا ہے۔اس کو دیسی شراب بھی کہتے ہیں۔ یہ پچھلی دو اقسام سے زیادہ مہنگی شراب ہوتی ہے۔

کچی شراب پاکستان میں غیرقانونی طور پرتیار کی جانے والی سب سے مقبول شراب ہوتی ہے۔ اس کو تیار کرنے کے لیے غیرقانونی کشید کی جاتی ہے۔ کئی افراد اس کو استعمال کرکے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتےہیں۔ جنوبی پنجاب اور سندھ میں اس کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کو تیار کرنے میں میتھائلیٹڈ اسپرٹ، تھنر،کھانسی کی شربت والا محلول اور مینڈریکس ٹیبلیٹس کو شامل کیا جاتا ہے۔ ان تمام اجزا کو منرل واٹر میں ملایا جاتا ہے۔ جو مافیا اس کی تیاری میں ملوث ہے ،ان کے پاس مقامی اور غیرملکی شراب کی خالی بوتلیں ہوتی ہیں ۔ ان کے پاس اس بوتلوں پر سیل لگانے والی مشینیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ ان بوتلوں کو دیکھ کر اصلی شراب کی بوتلوں اورغیرقانونی مہلک شراب کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

میتھانول کو میتھائل الکحل یا ووڈ الکحل کہا جاتا ہے۔ اس کیمیکل کا فارمولا سی ایچ 3 او ایچ ہے۔ میتھانول بغیر رنگ، ہلکا اور جلد آگ پکڑنے والا محلول ہوتا ہے جس کی ایک خاص قسم کی بو ہوتی ہے۔  یہ بو ایتھانول سے کچھ زیادہ میٹھی ہوتی ہے اور لکڑی کی ڈسٹیلیشن کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ یہ اینٹی فریز اور حل ہوجانے والا محلول ہوتا ہے۔ میتھانول پینے سے جسم کے اندرونی نظام میں شدید نوعیت کی خرابیاں درپیش ہوتی ہیں۔ جن میں بینائی کا چلے جانا اور ذہنی معذوری بھی شامل ہے۔ یہ جسم میں جاکر انتہائی مہلک ایسڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہ زہریلے میٹابولائٹس جن میں فورملڈی ہائیڈیڈ اور فارمک ایسڈ شامل ہے،اس سے جسم میں شدید نوعیت کی تیزابیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بینائی متاثر ہونے کے ساتھ دل کے امراض اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ انسانی جسم میں اس کی سب سے کم مقدار انسان کے جسم کے وزن کا ایک گرام ہوتا ہے۔ میتھانول سے سینٹرل نروس سسٹم متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ فورڈی ہائیڈیڈ سے شامل ہوکر ایسڈ بناتا ہے۔ فارمک ایسڈ سے انسانی جسم کے اندر آکسیجن کی مقدار کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ انٹروینشنسٹ اورضیاء الدین اسپتال نارتھ ناظم آباد کے آئی سی یو کی سربراہ ڈاکٹرقرۃ العین نےبتایا کہ اچانک جگر خراب ہوجانے سے بھی موت واقع ہوجاتی ہے۔

سینٹرل نروس سسٹم متاثر ہونے کی صورت میں سر درد،نقاہت،متلی، اعضاء میں ہم آہنگی کا فقدان اور ذہنی الجھاؤ بڑھ جاتا ہے۔ میتھانول لینےکے بعد ابتدائی علامات ظاہر ہونے کے 10 سے 30 گھنٹے کے دوران دیگرعلامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ان میں آنکھوں کے سامنے دھندلا پن یا مکمل بینائی کھوجانا اور تیزابیت شامل ہے۔ان علامات کی وجہ خون میں فارمک ایسڈ کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جانا ہوتی ہے۔ نظام تنفس متاثر ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ میتھانول سے ہونے والی اموات کی ایم آر آئی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ کے اندرونی حصے میں خون کا رساؤ شروع ہوجاتا ہے جس میں حرام مغز اور دماغ کے دیگر حصے شامل ہیں۔

اگر آپ کو ایسی صورتحال درپیش ہے کہ آپ کے اطراف موجود کسی شخص نے میتھانول ( یا کچی شراب) پی لیا ہے تو فوری طور پر طبی امداد کے لئے رجوع کریں۔ جب تک طبی امداد پہنچے،مریض کی طبیعت مندرجہ ذیل طریقہ کار سے بحال کریں۔

اگر وہ بے ہوش ہیں تو آہستگی سے ان کو کروٹ دلائیں تا کہ الٹی یا قے ہونے کی صورت میں  سانس کی نالی میں رکاوٹ نہ ہو۔

اگر وہ ہوش میں ہیں تو مریض کو کہیں کہ ایک کروٹ پر لیٹے رہیں جب تک طبی امداد ملنا شروع نہیں ہوتی۔

اگر وہ کچھ نگل سکتے ہیں تو انھیں پانی پلائیں۔

طبی امداد پہنچنے تک مریض کے ساتھ موجود رہیں۔

پیرامیڈیک عملہ مریض کو اسپتال منتقل کردے گا جہاں اس کو فوری طورپر طبی امداد فراہم کی جائے گی۔

انتہائی باریک بینی سے اس کی علامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

سانس لینے کے نظام کو فعال رکھنے کےلیے ٹیوب لگائی جائے گی تاکہ مریض کا نظام تنفس متاثر نہ ہو۔

آکسیجن تھراپی کی جائے گی۔

ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کے لیے ڈرپ کے ذریعے ادویات دی جائیں گی۔

مریض کو وٹامنز اور گلوکوز دی جائے تا کہ اس کی طبعیت میں مزید خرابی پیش نہ آیا۔

مریض کی پیشاب کی نالی سے بیگ منسلک کردیا جائے تاکہ اس کو کوئی دشواری نہ ہو۔

مریض کے جسم میں موجود شراب کو نکالنے کےلیے گیسٹرک لاویج کیا جاتا ہے۔

مریض کا چارکول بھی دیا جاتا ہے تاکہ اس کے جسم میں شراب کی مقدار خون میں جذب نہ ہوسکے۔

ضلع سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے شراب کشید کرنے والے شخص نے بتایا کہ گُڑ کو خمیر کرکے شراب تیار کی جاتی ہے۔مقامی طور پر تیار کردہ شراب کچی شراب سے مختلف ہوتی ہے جس میں میتھائل اسپرٹ استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ڈسٹیلیشن کے طریقہ کار کا کوئی واضح اور نیا نظام نہیں ہے۔

مقامی افراد سے ملنے والی معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچی شراب تیار کرنے کےلیے گڑ،گنا، گلے سڑے پھل اور کیکر کی چھال استعمال ہوتی ہے۔ تمام اجزا کو ایک برتن میں ڈال کر زمین کے اندر کئی  دن تک رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کو ایک بڑے برتن میں ڈال کر گرم کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کو ٹھنڈے پانی کے برتن سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ درمیان میں موجود برتن کو ایک اور برتن سے پائپ کے ذریعے منسلک کیا جاتا ہے۔ اس پائپ کے ذریعے بخارات کی صورت میں خمیر شدہ اجزا دوسرے برتن میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور یوں مقامی شراب تیار ہوجاتی ہے۔

ہنزہ واٹر ( کچی شراب ) کو مقامی طور پر ملک کے شمالی علاقہ جات میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی تیاری کے تراکیب نسل در نسل منتقل ہورہی ہیں۔ تاہم اس کو کم و بیش اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا ہے۔

مقامی مون لائٹ ( کچی شراب کا مقامی نام ) انتہائی خالص طور پر تیار کی جاتی ہے۔اس کو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں بنایا جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں اس میں زہریلے اجزا شامل کئے جاتے ہیں تا کہ اس کی شدت اور مقدار میں اضافہ کیا جاسکے اور بڑے پیمانے پر منافع کمایا جاسکے۔ اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ مقامی طور پر اس کو ٹھرا، پوائنٹ، کپی، نپ اور کواٹر کہا جاتا ہے۔

کپی اور ٹھرا انتہائی زہریلی شراب ہوتی ہے اور اس میں نشہ آور اور اسپرٹ کو خاص درجہ حرارت میں ملایا جاتا ہے۔ یہ شراب پلاسٹک کی تھیلیوں میں صرف 100 روپے میں فروخت ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی شراب پینے سے زیادہ تر اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

شراب کا مخصوص کوٹہ اورقانون پر عمل درآمد میں کوتاہی ایسی شراب کی فروخت بڑھاتی ہے جس میں اجزا کا توازن نہیں رکھا جاتا اور زہریلے محلول شامل کرنے سے اس کو پینے والے کی جان کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

سابق ایڈیشنل پولیس افسر ڈاکٹر کلیم شیخ نے بتایا کہ مقامی زبان میں شراب فروخت کرنے والی جگہوں کو گٹکا کہا جاتا ہے۔ یہ جگہیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ وائن شاپس زیادہ تر اقلیتوں کو شراب فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے شریعہ قوانین کے مطابق ملک کے مسلمان شہریوں کو شراب فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وجہ سے بلیک مارکیٹ پروان چڑھتی ہے۔

ماضی میں آنے والی خبر کے مطابق، کراچی میں 8 اکتوبر2014 کو  گھر میں تیار کردہ زہریلی کوالٹی کی شراب پینے سے 23 افراد ہلاک اور 13 انتہائی بیمار ہوکر اسپتال منتقل کئے گئے تھے۔

یہ کچی شراب گھروں میں غیر لائسنس یافتہ بھٹیوں میں تیار کی جاتی ہے جن میں پاکستان کے کئی چھوٹے علاقے شامل ہیں۔ شراب میں شامل کئے گئے اضافی کیمیکلز اس کو زہریلا بنادیتے ہیں۔ اس کے باعث ہر سال درجنوں اموات ہوتی ہیں۔

یہ شراب اصل شراب کی قیمت سے انتہائی کم ہوتی ہے اور زیادہ تر اس کو وہ افراد استعمال کرتے ہیں جو اعلیٰ کوالٹی والی شراب خریدنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ میں شراب پر پابندی کا بل بحث کے لیے موجود ہے۔ پاکستان میں شراب پینے والوں کی اصل تعداد کے کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں کیوں کہ ملک میں مسلمانوں کے لیے شراب پر پابندی ہے تاہم مقامی سطح پر شراب بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں