کیا اسلام آباد میں بادل پھٹنے(کلاؤڈ برسٹ) سے اتنی بارش ہوئی

مزید ایسی بارشیں ہونگی

Your browser does not support the video tag.

اسلام آباد اور راول پنڈی میں بروز بدھ 28 جولائی کی علی الصبح بارش کی دھواں دھار اننگ سے جہاں ہر طرف جل تھل ہوا وہیں لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ بادل پھٹنے سے شہر میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا سے لیکر حکام بالا اور اعلیٰ تک یہ ہی کہنے لگے کے کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے اسلام آباد کی گلیاں جل تھل ہوئیں اور راول پنڈی میں نالے بھپر گئے، تاہم ڈی جی میٹ آفس محمد ریاض نے ان تمام ہی افواہوں اور بیانات کی تردید کردی۔

سما کے پروگرام ندیم ملک  لائیو میں ڈی جی میٹ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں 28 جولائی کو ہونے والی بارش مون سون کی ہیں، اور عموماً مون سون میں ایسی بارشیں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی بادل نہیں پھٹا اور نہ کسی کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنے سے راول پنڈی کے نالوں میں طغیانی آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مون سون سیزن میں مزید ایسی بارشیں ہوتی رہیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رواں ماہ کے آغاز میں 13 جولائی کو مختلف میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پوسٹ میں کلاؤڈ برسٹ سے متعلق خبریں سامنے آئی تھیں، جس پر محکمہ موسمیات کی جانب سے تردیدی نوٹ جاری کیا گیا تھا۔

کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنا کیا ہوتا ہے؟

کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنے کا مطلب کسی مخصوص علاقے میں اچانک بہت کم وقت میں گرج چمک کے ساتھ بہت زیادہ اور موسلادھار بارش کا ہونا ہے جس کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو جائے۔

سائنسی بنیادوں پر بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔

اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتے۔

کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ماضی میں پاکستان اور انڈیا اور اس کے زیرِ قبضہ کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں جہاں کم اونچائی والے مون سون بادل اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور برس پڑتے ہیں۔

متضاد بیانات

اسلام آباد میں بارش اور راول پنڈی کے نالوں میں طغیانی پر متضاد بیانات بھی سامنے آئے۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں سیلابی صورت حال کی وجہ بادل کے پھٹنے کو کہا گیا جب کہ محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں کو سیلابی صورت حال کی وجہ قرار دیا۔ ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آیا ہے

کتنی بارش برسی؟

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں سب سے زیادہ 123 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ سیکٹر ای الیون میں امدادی کام جاری ہے، آرمی کی ریسکیو ٹیمیں ای الیون میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، خطرے کے یشِ نظر سائرن بجائے جانے لگے، طغیانی کے خطرے کے باعث پاک فوج کے دستے طلب کرلیے گئے ہیں۔ حمزہ شفقات کے مطابق ٹیمیں نالوں اور سڑکوں کو صاف کررہی ہیں۔ جلد تمام علاقے کلئیر کردیں گے۔

انہوں نے وہاں کے رہائشیوں سے درخواست کی کہ وہ تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود رکھیں۔ ترجمان واسا کا کہنا ہے فوج سمیت واسا کا تمام عملہ ہائی الرٹ ہے۔

متعلقہ خبریں