کیا انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پرمجوزہ ٹیکس بجٹ کا حصہ تھا؟

وزیر خزانہ شوکت ترین کے بجٹ تقریر کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے انٹرنیٹ ڈیٹا پر مجوزہ ڈیوٹی پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے فنانس بل اور ان کی تقریر میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز کا ذکر موجود تھا۔
تاہم بجٹ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے وفاقی بجٹ میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر ڈیوٹی لگانے کے حوالے سے کہا ہے کہ مذکورہ تجویز کی وزیراعظم اور کابینہ نے منظوری نہیں دی ہے۔
جمعے کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ شوکت ترین کے بجٹ تقریر کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے انٹرنیٹ ڈیٹا پر مجوزہ ڈیوٹی پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
مزید پڑھیں
وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے ٹویٹ کیا کہ ’وزیراعظم  اور کابینہ نے انٹرنیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی منظوری نہیں دی ہے اور اسے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے فنانس بل (بجٹ) میں شامل نہیں کیا جائے گا۔‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت وفاقی کابینہ کی جانب سے نامنظور کی گئی شق کو فنانس بل کا حصہ بنا کر ایوان میں پیش کر سکتی ہے؟
اس حوالے سے سابق سپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ معمول کی قانون سازی اور فنانس بل میں فرق یہ ہوتا ہے کہ باقی حکومتی بل کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوتے ہیں تو ان میں جو بھی ترامیم کرنی ہوں کابینہ تجویز کرکے متعلقہ وزارت کو واپس کرتی ہے یا قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے ترامیم شامل کرنے کی شرط کے ساتھ منظور کر دیتی ہے۔
’تاہم فنانس بل قومی اسمبلی کے اجلاس سے کچھ ہی دیر پہلے کابینہ میں پیش کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ممکن نہیں ہوتا کہ اس میں مجوزہ ترامیم کو فوراً شامل کیا جا سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فنانس بل کی منظوری ایک طویل عمل ہوتا ہے جس کے لیے خود حکومتی ارکان، اپوزیشن اور سینیٹ کی جانب سے ترامیم آتی ہیں اور کئی مرتبہ وہ تجاویز حکومت کے لیے قابل عمل ہوتی ہیں اور بجٹ کے پہلے دن پیش کیا گیا فنانس بل منظوری کے وقت کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے کابینہ نے آج بھی فیصلہ کیا کہ انٹرنیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق شق حتمی فنانس بل سے ختم کر دی جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے ذمہ دار وزیر نے نشان دہی کے بعد آگاہ کر دیا ہے کہ مذکورہ تجویز فنانس بل کا حصہ نہیں ہوگی تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ترمیم تو از خود ہی ہوگئی ہے۔‘