کیا آپ کو لگائی گئی کورونا کی ویکسین نے اپنا کام شروع کر دیا ہے؟

پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کی مہم جاری ہے اور اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 27 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ 
پاکستان میں سرکاری سطح پر چینی کمپنی کی تیار کردہ ویکسین سائنو فارم 40 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت لگائی جا رہی ہے جبکہ نجی سطح پر روسی کمپنی کی سپتنک فائیو اور چینی کمپنی کی کین سینو بائیو کی محدود خوراکیں درآمد کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
چند روز قبل پاکستان کے معروف گلوکار علی ظفر نے کورونا ویکسین کے موثر ہونے کے حوالے سے سوال کیا۔ اپنی ایک ٹویٹ میں علی ظفر نے لکھا کہ ’73 سالہ والد کو سائنو فارم ویکسین لگوانے کے ہفتوں بعد بھی اینٹی باڈیز نہیں بنیں، کیا کرنا چاہیے؟‘ 
خیال رہے کہ سائنو فارم ویکسین حکومت کی جانب سے 40 سال سے زائد عمر کے افرا کو مفت لگائی جا رہی ہے۔
کورونا ویکسین کے موثر ہونے کے حوالے سے اردو نیوز نے ماہرین سے بات کی ہے اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ ویکسین کے موثر ہونے کو کیسے جانچا جائے؟ 
عالمی ادارہ صحت کے سابق رکن اور پاکستان کے معروف ماہر وبائی امراض ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے مطابق ’کورونا ویکسین کا موثر ہونا اینٹی باڈیز ٹیسٹ سے مشروط نہیں ہے۔‘
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اینٹی باڈیز ٹیسٹ جسم میں موجود مدافعتی نظام کو ایک حد تک جانچنے کا پیمانہ ہے اور یہ ایک یا دو پوائنٹ تک ہی محدود رہتا ہے جس سے جسم میں مدافعتی نظام کا پتا چلتا ہے۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’اگرٹیسٹ میں اینٹی باڈیز ایک حد تک نہیں بنیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جسم میں وائرس سے لڑنے کی مدافعت نہیں ہے یا ویکسین موثر نہیں ہے، کیونکہ جسم کے اندر دیگر سیلز موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے مطابق کورونا ویکسین کا موثر ہونا اینٹی باڈیز ٹیسٹ سے مشروط نہیں ہے (فوٹو: اے ایف پی)
قومی ادارہ صحت سے منسلک ڈاکٹر اعجاز احمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کورونا ویکسین لگوانے کے بعد اینٹی باڈیز ٹیسٹ ایک طریقہ ضرور ہے، جس سے جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار کو جانچا جاتا ہے لیکن اگر دوسری خوراک لینے کے تین ہفتے بعد بھی اینٹی باڈیز نہیں بنیں تو اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’اینٹی باڈیز کی مقدار کم ہونے کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو لگائی گئی ویکسین بالکل ناکارہ تھی، بلکہ ہو سکتا ہے جسم میں کوئی ایسا انفیکشن موجود ہو جس کی وجہ سے رپورٹس میں اینٹی باڈیز کی سطح کم آئی ہو۔‘ 
ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لگائی گئی ویکسین کی سٹوریج کا کوئی مسئلہ ہو، جس کی وجہ سے ویکسین نے کام نہیں کیا۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’ابھی تک ایسا کوئی کیس ہمارے مشاہدے میں نہیں آیا کہ جس نے ویکسین کی دو خوراکیں لی ہوں اور چار ہفتے بعد اینٹی باڈیز نہ بنی ہوں۔‘
ڈاکٹر اعجاز احمد کے مطابق ’بچوں کو بھی مختلف ویکسین لگائی جاتی ہیں لیکن کبھی یہ چیک نہیں کیا جاتا کہ ویکسین نے کام شروع کر دیا ہے یا نہیں، اسی لیے ویکسین لگوانے کے بعد بھی احتیاط نہیں چھوڑنی چاہیے۔‘
بقول ان کے ’بعض اوقات ایسے کیسز بھی سامنے آجاتے ہیں کہ ویکسین کی دو خوراکیں لینے کے بعد بھی کورونا مثبت ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ویکسین لگانے کا مقصد کورونا کے خطرات کو کم سے کم کیا جانا ہے۔ دو خوراکیں لینے کے بعد کورونا کا شکار ہونے کے امکانات اور جسم پر کم سے کم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘ 

ماہرین کہتے ہیں کہ عوامی سطح پر شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ویکسینشن کے حوالے سے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں (فوٹو:اے ایف پی) 

کورونا ویکسین کے موثر ہونے کا پتہ کیسے لگایا جائے؟

ماہر وبائی امراض ڈاکٹر رانا جواد اصغر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں کورونا ویکسین کے موثر ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا ہے کہ جن افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے ان میں سے کتنے افراد دوبارہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں ان پر اس کے اثرات کس نوعیت کے تھے۔‘ 
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ میں 95 ملین افراد کو ویکسین لگائی گئی تو ان میں سے پانچ یا چھ ہزار افراد کو دوبارہ انفیکشن ہوا اور ان میں سے صرف 132 افراد کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوئے، تو ویکسین کتنی موثر ہے اس کا اندازہ تو یہیں سے لگایا جاسکتا ہے۔‘
ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے بقول اینٹی باڈیز ٹیسٹ کے ذریعے بھی جانا جا سکتا ہے کہ ویکسین نے کام شروع کیا یا نہیں، لیکن عالمی ادارہ صحت سمیت تمام ماہرین اینٹی باڈیز ٹیسٹ ویکسین لگانے کے بعد تجویز نہیں کرتے کیونکہ اینٹی باڈیز نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ویکسین نے کام نہیں کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اگر اینٹی باڈیز ٹیسٹ ویکسین کے موثر ہونے کے جانچنے کا صحیح پیمانہ ہوتا تو عالمی ادارہ صحت اور امریکہ کے اداہ برائے امراض کنٹرول ضرور یہ ٹیسٹ تجویز کرتے۔‘ 
ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے خیال میں ’حکومت کو کورونا ویکسین کے موثر ہونے کے حوالے سے عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سرکاری سطح پر لگائی جانے والی ویکسین سائنو فارم 78 فیصد موثر ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ 100 فیصد رسک پر ہونے کے بجائے 22 فیصد رسک پر ہیں۔‘