کیا لیسٹر میں ہونے والے ہندو مسلم ہنگاموں میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا؟

ٹوئٹر پر ہندو مسلم فسادات کے موقع پر غلط ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے۔ فوٹو: روئٹرز)

برطانیہ کے شہر مشرقی لیسٹر میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے پیچھے سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم تھا۔
مشرقی لیسٹر میں رواں برس 28 اگست کو ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ کے بعد ہندو اور مسلم کمیونٹی کے درمیان ہونے والی لڑائی کئی ہفتوں تک چلتی رہی جس کے نتیجے میں مقامی پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کیا۔
مزید پڑھیں
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس ساری صورت حال کے پیچھے سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے اپلوڈ ہونے والے مواد کے باعث مشرقی لیسٹر میں کشیدگی شدت اختیار کرتی گئی اور کرکٹ میچ سے شروع ہونے والی لڑائی مذہبی فساد کا سبب بن گئی۔
لیسٹر پولیس کے افسر راب نکسن کے مطابق ’اگست میں ہونے والی افراتفری میں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی غلط معلومات نے بھرپور کردار ادا کیا۔‘
لیسٹر کے میئر پیٹر سولز بائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں نے سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والے الفاظ دیکھے جو بہت خراب تھے اور ان میں سے کچھ مواد بالکل جھوٹ پر مبنی تھا۔‘
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر پولیس نے خود تحقیقات کر کے اس معاملے کو سُلجھایا کہ نوجوان لڑکی کو تین آدمیوں کی جانب سے اغوا کرنے کا معاملہ بالکل جھوٹ تھا اور ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

ایشیا کپ میں پاکستان، انڈیا میچ کے بعد لیسٹر میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے۔ فوٹو: اے پی
ماہرین کے مطابق اشتعال انگیز ٹویٹس، افواہیں اور جھوٹی معلومات زیادہ تر انڈیا سے پھیلائی گئیں کیونکہ وہاں سے غلط معلومات شائع ہونے کا سلسلہ کافی مضبوط ہے۔
جنوبی ایشیا یکجہتی گروپ کے کیول بھارادیا کہتے ہیں کہ ’لیسٹر میں ہونے والے واقعات اچانک سے نہیں ہوئے، فیملی اور دوست ایک دوسرے کو غلط معلومات کئی برسوں سے بھیج رہے ہیں، یہ ٹرولنگ کرنے والی فوج کی جانب سے نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔‘
غلط ہیش ٹیگز کا استعمال
لیسٹر میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے پیچھے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جو ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے ان میں سے آدھے سے زیادہ ٹویٹس انڈیا میں موجود اکاؤنٹس کے ذریعے کیے گئے تھے۔
ان ہیش ٹیگز میں ہیش ٹیگ لیسٹر، ہیش ٹیگ ہندوز انڈر اٹیک، ہیش ٹیگ ہندوز انڈر اٹیک اِن یو کے سرفہرست تھے۔