کیا کرونا ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مرجائینگے؟

معروف سائنسدان دان عطاء الرحمان کا تبصرہ

ان دنوں دنیا بھر میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے والے تمام افراد محض 2 برس میں ہی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے تاہم سماء ٹی وی نے اس حوالے سے ملک کے معروف سائنسدان دان عطاء الرحمان سے گفتگو کی جنہوں نے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عطاءالرحمان کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین لگانے کے دو سال بعد مرنے والی خبر میں صداقت نہیں اور کرونا سے متعلق بھی تمام افواہیں جھوٹی ہیں۔

ڈاکٹر عطاءالرحمان کا کہنا تھا کہ نوبل انعام یافتہ فرانسیسی نیورولوجسٹ سے متعلق منسوب یہ خبر غلط ہے کہ ویکسین لگنے کے دو سال بعد انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے، انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔پاکستانی سائنسدان نے واضح کیا کہ نیورولوجسٹ نے یہ کہا تھا کہ کرونا ویکسین لگانے کے بعد جسم میں دو قسم کی اینٹی باڈیز بنتی ہیں جن میں سے ایک جسم کے لیے فائدہ مند جبکہ دوسری نقصان دہ نہیں ہوتی ہے۔ تاہم ڈاکٹر عطاءالرحمان نے کہا کہ اس نیورولوجسٹ کے اس سے پہلے بھی بہت سارے متنازع بیانات موجود ہیں جنہیں سائنسدانوں نے مسترد کیا مگر یہ بیان تو انہوں نے دیا بھی نہیں ہے اور عوام کو ایسی خبروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ڈاکٹر عطاءالرحمان کا کہنا تھا کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جن ممالک میں ویکسین لگ چکی ہے وہاں سے کرونا حتم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین لگنے کے بعد دوسری بیماریوں میں مبتلا ہونے کا تاثر بھی درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین لگوانے کے بعد اگر کوئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہو بھی جائے تب بھی اس کا جسم کو کم نقصان پہنچے گا۔علاوہ ازیں ان دنوں سوشل میڈیا پر کئی ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں کرونا کے ٹیکے کے لگنے کے مقام پر مقناطیس چپک جانے یا بلب روشن ہوجانے کے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عطاءالرحمان نے ایسی ویڈیوز کو جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن قرار دیا۔ڈاکٹر عطاءالرحمان نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کرونا سے بچاؤ والی ویکسین لگوانے کا موقع ملتا ہے تو وہ یہ ضرور لگوائیں۔

متعلقہ خبریں