’کیا کرپشن ختم کرنا عمران خان کی ذمہ داری ہے، اسٹیبلشمنٹ کی نہیں‘

عمران خان نے کہا کہ پریس کانفرنس میں ان کے خلاف توہین مذہب کا الزام لگایا۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’چار لوگوں نے بند کمرے میں انہیں مروانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ابھی تک اس چیز میں لگے ہوئے ہیں۔‘ 
سنیچر کو رحیم یار خان میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’دونوں مریم جو جھوٹ میں پی ایچ ڈی ہیں اور جاوید لطیف سے پریس کانفرنس کروائی گئی اور مجھ پر توہین مذہب کے الزامات لگوائے۔‘
’تاکہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو کہیں کہ کسی مذہبی جنونی نے کر دیا، انتہا پسند نے مار دیا۔‘
مزید پڑھیں
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کرپشن ختم کروانا کیا صرف انہی کی ذمہ داری ہے۔
’آج اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں کہ یہ چور جو اپنے کرپشن کے کیسز ختم کر رہے ہیں، کیا کرپشن ختم کرنا صرف عمران خان کی ذمہ داری ہے۔ کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔۔۔۔ کیا میں نے کرپشن ختم کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کیا یہ کسی اور کی ذمہ داری نہیں۔‘
’طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ ہم تو نیوٹرل ہے اور کسی کے ساتھ نہیں۔ لیکن اللہ تعالٰی نے قرآن میں کہا ہے کہ اچھائی کے ساتھ رہیں اور برائی کے خلاف کام کریں۔ نیوٹرل رہنے کا نہیں کہا ہے۔ ساری قوم پر فرض ہے کہ ان چوروں کا مقابلہ کریں۔‘
کال تب دوں گا جب ایک گیند سے تینوں وکٹیں گر سکیں گی 
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی آزادی کی کال تب دیں گے جب ان کے مخالف سمجھیں گے کہ عمران خان پیچھے ہٹ گیا ہے۔
’کال تب دوں گا جب مجھے پتا ہوگا کہ میری ایک گیند سے تینوں وکٹیں گر جائیں گی۔ یہ آخری کال ہوگی۔ اس کے بعد کوئی کال نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی دھرنا ہوگا۔‘

عمران خان کے مطابق انہیں جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی کی فکر ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا کہ حامی صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ملک سے بھگا دیا جائے، سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں کو دھمکیاں دی جائیں اور نامعلوم نمبروں سے ڈرایا جائے۔ 
’نامعلوم نمبروں سے کوئی دھمکیاں دے تو واپس اس کو دھمکی دیں۔ اس ملک کا قانون اور عدلیہ مجھے آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ وہ پورے پاکستان میں پھر رہے ہیں، انہیں اپنی جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی کی فکر ہے۔
عمران خان نے اپنے خلاف ہونے والی سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنی انا اور کرپشن کے قیدی ہیں، یہ ملک سے باہر رہتے ہیں، حکومت کرنے واپس آتے ہیں اور لُوٹ کر واپس چلے جاتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہیں نااہل کروانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف ہی جیتے گی۔