کینیڈامیں بین المذاہب مارچ،حملےمیں جاں بحق افرادکوخراج عقیدت پیش کیاگیا

تصویر: ٹی آرٹی

کینیڈا میں مسلمان خاندان کی حملے میں موت کی یاد میں بین المذاہب مارچ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق انٹاریو میں جمعہ کی شام ہونے والے مظاہرے میں کئی مذاہب کے افراد شریک ہوئے۔ مظاہرے کی شروعات اس مقام سے ہوئی جہاں پچھلے اتوار کو مسلمان خاندان کے 4 افراد کو حملہ آور نے ٹرک کی ٹکر سے مار دیا گیا۔ اس مقام کا نام لندن ہے۔ مظاہرین نے لندن کی جامع مسجد تک تقریبا 7 کلومیٹر تک مارچ کیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے خلاف نعرے درج تھے۔  مظاہرین نے جان لینن کا گانا، گیو پیس اے چانس بھی گایا ۔

مارچ میں موجود شرکا نے لندن کی مسلم برادری کو مکمل حمایت کا یقین دلایا  اور نفرت، مذہبی انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اونٹاریو میں واقع لندن کے علاقے میں اتوار 6 جون کو کالے پک اپ ٹرک کے ذریعے مسلمان گھرانے کو کچلنے والے دہشت گرد کی شناخت نتھینیل ویلٹ مین کے نام سے کی گئی ہے۔ نتھینیل ویلٹ مین کی عمر 20 سال ہے اور وہ اونٹاریو میں لندن کے قریب ایک پیکنگ پلانٹ پر کام کرتا تھا۔

چار روز قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین پارلیمنٹ سے خطاب میں بتایا کہ اس واقعے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ دہشت گرد حملہ تھا۔ مذہبی منافقرت کی ہمارے معاشرے میں کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

متعلقہ خبریں