کینیڈا میں مسلم خاندان کے چار افراد ہلاک، ’سوچے سمجھے منصوبے‘ کے تحت ٹرک نے روند ڈالا

 کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں ایک ٹرک ڈرائیور نے ایک مسلم خاندان کے چار افراد کو ’سوچے سمجھے منصوبے‘ کےتحت ٹرک سے کچل کر ہلاک کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام پیش آیا ہے۔
ایک ہی خاندان کے پانچ افراد فٹ پاتھ پر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ایک پک اپ ٹرک نے انہیں اس وقت روند ڈالاجب وہ ایک انٹرسیکشن کراس کرنے کے لیے کھڑے تھے۔

اونٹاریو کے شہر لندن کے انٹرسیکشن کراس واک پر یہ واقعہ پیش آیا۔ ( فوٹو اے پی)
کینیڈین پولیس نے بیس سالہ مشتبہ کینیڈین نوجوان کو اونٹاریو کے شہر لندن کے انٹرسیکشن کراس واک جہاں یہ واقعہ پیش آیا سے سات کلو میٹر دور ایک مال سے گرفتار کیا ہے۔
زیرحراست نوجوان پر قتل کے چار اور اقدام قتل کا ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والا ایک بچہ ھسپتال میں زیر علاج ہے۔
کینیڈین پولیس کے ڈیٹیکٹو سپرینٹنڈنٹ پال وائٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس بات کے شواہد ہیں کہ یہ  ایک ’سوچے سمجھے منصوبے‘ کے تحت نفرت میں کیے جانے والا اقدام تھا‘۔
پولیس کے مطابق’ خیال کیا جاتا ہے کہ متاثرہ افراد کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے‘۔
 اس خاندان میں سے صرف نو سال کا ایک بچہ زندہ بچ پایا ہے اور شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل ہے۔

پولیس نے مشتبہ نوجوان کی سوشل میڈیا پوسٹ کا جائزہ لیا ہے۔ (فوٹو اے ایف پی)
پال وائٹ نے بتایا کہ’ بیس سالہ مشتنہ نوجوان جو ’زرہ بکتر کی طرح‘ جیکٹ پہنے ہوئے تھا جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا۔ اسے سات کلو میٹر دور ایک مال سے گرفتار کیا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ’ مقامی حکام وفاقی پولیس اور اٹارنی جنرل سے بھی دپہشت گردی کے ممکنہ الزامات شامل کرنے کے بارے میں رابطہ کر رہے ہیں‘۔
پولیس نے تفتیش سے متعلق بتایا کہ مشتبہ نوجوان کی سوشل میڈیا پوسٹ کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ہلاک ہونیوالوں کے نام جاری نہیں کیے گئے لیکن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر کے مطابق ان میں 74 سالہ خاتون، ایک 46 سالہ مرد، ایک 44 سالہ خاتون اور 15 سالہ لڑکی شامل ہے جو ایک ہی خاندان کی تین نسلو ں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ایڈ ہولڈر نے مزید کہا کہ ’مجھے واضح کرنے دیں یہ مسلمانوں کے خلاف، شہر والوں کے خلاف اجتماعی قتل کا ایک ایسا اقدام تھا جس کی جڑیں ناقابل بیان نفرت ہے‘۔