کینیڈین پارلیمنٹ کے ممبر دوسری بار ویڈیو کانفرنس میں برہنہ، ’بڑی شرمندگی ہے‘

کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ویڈیو کانفرس اجلا س کے دوران واش روم جاتے ہوئے کیمرا آن رکھنے والے رکن نے کہا ہے کہ وہ اپنی کچھ ذمہ داریوں سے الگ ہو رہے ہیں اور واقعے کے بعد ’معاونت‘ حاصل کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبرل پارٹی کے ممبر ولیم آموس نے اجلاس کے شرکا سے معذرت کی تاہم یہ ایک ماہ کے دوران دوسرا واقعہ ہے جب وہ کیمرے کے سامنے برہنہ ہوئے۔
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’گزشتہ رات جب وہ پارلیمنٹ کے ورچول اجلاس میں شریک تھے تو رفع حاجت کے لیے گئے اور کیمرا بند کرنا بھول گئے۔
مزید پڑھیں
ولیم آموس نے کہا کہ وہ اپنے افعال کے لیے نہایت شرمندہ ہیں۔ ’یہ بڑی شرمندگی ہے اور دیکھنے والوں کو اس سے سخت کوفت ہوئی ہوگی۔ ہر چند کہ یہ حادثاتی تھا اور عام لوگوں کو دکھائی نہ دیا تاہم یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور میں معافی چاہتا ہوں۔‘
اپوزیشن جماعت کنزرویٹو نے ولیم آموس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ دوسری مرتبہ ہے وہ ہاؤس میں اپنے ساتھیوں کے سامنے خود کو برہنہ کر رہے ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ کیرن ویچیو نے کہا کہ یہ ولیم آموس کے رویے کا تسلسل ہے اور اب یہ واضح ہے کہ وزیراعظم جسٹس ٹروڈو کی پارٹی کے ارکان پارلیمان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

ایک ماہ میں دوسری بار ورچول اجلاس میں برہنہ ہونے پر ساتھی ارکان پارلیمنٹ ولیم آموس سے ناراض ہوئے۔ فوٹو: ولیم آموس فیس بک
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اپریل میں بھی ولیم آموس کو اس طرح کے واقعے پر معذرت کرنا پڑی تھی۔
اُس وقت وہ زوم میٹنگ کے دوران کیمرہ بند کرنا بھول گئے تھے اور برہنہ حالت میں باتھ روم سے باہر نکلے اور اجلاس میں موجود لوگوں کو بھی شرمندہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق جب ولیم باتھ روم سے نکلے تو وہ بالکل برہنہ تھے، ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھا۔ ان کے ایک طرف کینیڈا کا جھنڈا تھا اور دوسری طرف کیوبک صوبے کا۔ اور اسی دوران لیپ ٹاپ کا کیمرہ آن ہو گیا۔