کے فور صرف گورننس کا معاملہ ہے، چیئرمین واپڈا

چئیرمین واپڈا نے کہا ہے کہ پرانے ڈیزائن کے تحت کے فور منصوبے سے کراچی کو اضافی پانی نہیں مل سکتا، کے فور صرف گورننس کا معاملہ ہے۔

کراچی میں پانی کی قلت اور کے فور منصوبہ میں تاخیر کے کیس میں چیئرمین واپڈا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے۔ چئیرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ اگر کے فور کو پرانے ڈیزائن کے مطابق بنایا جائے تو کراچی کو مطلوبہ پانی نہیں مل سکے گا اورصرف 650 ملین گیلن پانی یومیہ اضافی ملے گا۔

چیئرمین واپڈا نےبتایا کہ کےفور صرف گورننس کا معاملہ ہے اور اس منصوبے کیلئے30 سے 40 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگانا ہوگا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اس پروجیکٹ کے لیے سولر لگائیں اور معاملہ حل کریں۔ چئیرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت ہمیں رائٹ آف وے دے تو کام آسان ہوگا اور منصوبے کی تکمیل میں مزید 22 ماہ لگ سکتے ہیں۔

عدالت نے سندھ حکومت کو رائٹ آف وے کے سلسلے میں تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔

کےفور منصوبے کی مختصر تاریخ

کراچی کو 650 ملین گیلن ڈیلی (ایم جی ڈی) اضافی پانی کی فراہمی والے کے فور منصوبے کا آغاز سن 2002 میں ہوا تھا اور اس حوالے سے ڈیزائن اور فیزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ میسرز عثمانی اینڈ کمپنی لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔

اسٹڈی سن 2007 میں مکمل ہوئی تھی لیکن کنسلٹنسی کمپنی نے 9 میں سے 8 مجوزہ روٹس کو فائنل کیا تھا۔ منصوبے کو تین مرحلوں میں بانٹا گیا تھا اور پہلے مرحلے میں 260 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کیا جانا تھا۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 260 ایم جی ڈی اور تیسرے میں 130 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کی جانی تھی۔

کیاواپڈا کےفور منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری نبھالے گا؟

منصوبے کی ابتدائی لاگت 25 ارب روپے تھی۔ سن 2011 میں منصوبے کا پی سی ون تیار کیا گیا جس کی منظوری قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے سن 2014 میں دی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو منصوبے خرچہ یکساں طور پر اٹھانا تھا۔

سن 2016 میں سندھ حکومت نے ایف ڈبلیو او کو کام کا ٹھیکہ دیا تاہم منصوبہ پر کام ڈیزائن میں نقص کی وجہ سے اگست 2018 میں روک دیا گیا۔ سن 2019 میں سندھ حکومت نے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کو کے فور کے ڈیزائن پر نظر ثانی کے لیے مقرر کیا۔

کام میں تاخیر کا جائزہ لینے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ میں اس وقت کے سیکریٹری بلدیات کے بقول کنسلٹنٹ میں قابلیت کا فقدان تھا جس کے سبب کے فور کی ناقص منصوبہ بندی کی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ روٹ نمبر 8 کا چناؤ غلط کیا گیا تھا جبکہ تین دیگر روٹس زیادہ موزوں تھے۔ نیسپاک نے ڈیزائن پر اپنی نظر ثانی کی رپورٹ بھی دی جس کے مطابق چنا گیا ڈیزائن غیر موزوں تھا۔ سندھ حکومت نے اکتوبر 2019 میں نیسپاک کی رپورٹ کی روشنی میں مسئلے کے حل کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی قائم کی۔

کمیٹی کے سربراہ اس وقت کے سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ تھے جنہوں نے اس مقصد کے لیے ایک سب کمیٹی بنادی تھی۔

دونوں کمیٹیوں نے کنسلٹنٹ اور نیسپاک کے ساتھ 6 اجلاس منعقد کیے جس کے دوران کنسلٹنسی کمپنی اور نیسپاک کے نمائندوں کے مابین گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی تاہم ان میٹنگز کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوسکا اور کے فور منصوبہ تعطلی کاشکار ہی رہا۔ جولائی 2020 میں سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ کنسلٹنسی کمپنی ڈیزائن پر نظر ثانی کرکے نیسپاک کے بتائے گئے نقائص دور کرے گی۔

متعلقہ خبریں