کے ٹو بیس کیمپ پر پہلا موبائل ٹاور نصب

اب دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر بھی موبائل فون کا استعمال کیا جاسکے گا کیونکہ بارڈر ایریاز میں ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولت فراہم کرنے والے سرکاری ادارے اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے چوٹی کے بیس کیمپ پر موبائل ٹاور نصب کردیا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے تعاون اور ایس سی او کی جانب سے کئے اس اقدام کا مقصد چوٹی سر کرنے والے سیاحوں کو جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی پر مبنی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

موبائل ٹاور کی تنصیب سے مہم جوئی کے دوران کوہ پیماؤں کو نا صرف اپنی ٹیم کے ساتھ باہمی رابطوں میں آسانی ہوگی بلکہ کسی ہنگامی صورتحال میں کوہ پیماؤں کو متعلقہ حکام کی جانب سے بروقت امداد بھی فراہم کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں موبائل ٹاور کی تنصیب سے کوہ پیماؤں اور سیاحوں کیلئے اپنے اہلخانہ کے ساتھ رابطہ بھی ممکن ہوگیا ہے۔

وزیر سیاحت گلگت بلتستان ناصر علی خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ٹاور کے فعال ہونے کے بعد رواں سال موسم گرما کے دوران مہم جوئی کرنے والے کوہ پیماؤں کو تیز ترین انٹرنیٹ اور فون کال کی سہولت میسر آئے گی۔

قبل ازیں کے ٹو سر کرنے جانیوالے کوہ پیما رابطے کیلئے سیٹلائٹ فون استعمال کرتے تھے لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں انہیں بیس کیمپ کے ساتھ رابطے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ناصر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے اور اس کیلئے مخلتف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے اسکردو براہ راست پروازوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے اسکردو کے راستے پر ہفتہ وار 2 پروازیں چلائی جائیں گی جو خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے معاون ثابت ہوں گے۔

وزیر سیاحت نے بتایا کہ پروازوں کی صورت میں ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کیلئے بھی نیا ٹریول کوریڈور کھولا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی تھی، جس کے تحت علاقے میں 4 جی انٹرنیٹ سروس فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کا بھی حکم دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے علاقے کے نوجوانوں کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

متعلقہ خبریں