گجر نالہ متاثرین کی بلاول ہاؤس پر احتجاج کی کوشش

کراچی میں انسداد تجاوزات آپریشن کیخلاف اورنگی اور گجر نالے کے متاثرين نے بلاول ہاؤس کے قريب احتجاج کی کوشش کی۔ مظاہرین نے سندھ حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور متبادل گھروں کی فراہمی کا مطالبہ کيا۔

مظاہرین کیخلاف پولیس بھی حرکت میں آئی اور خواتین سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔

گجر اور اورنگی ٹاؤن نالے پر لیز مکانات گرانے کیخلاف متاثرین احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے۔ یہ مظاہرہ کراچی بچاؤ تحریک کی حمایت سے کیا جارہا تھا۔

انسداد تجاوزات مہم کے آغاز سے گجر اور اورنگی ٹاؤن نالوں پر قائم گھروں کو گرانے کیخلاف کراچی بچاؤ تحریک کے تحت تمام مظاہروں کی نگرانی کرنیوالے خرم علی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا پولیس نے مظاہرین کو بلاول ہاؤس جانے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو بلاول ہاؤس پر مظاہرے کی اطلاع مل گئی تھی جس کے بعد انہوں نے منصوبے کے تحت مظاہرین کو آگے جانے سے روکا اور گرفتار کرلیا۔

خرم علی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو گرفتار کرنے میں تین پولیس اسٹیشنوں کی ٹیمیں شریک تھیں، پریڈی، کلفٹن اور درخشاں تھانوں کے اہلکار احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کو گرفتار کرنے کیلئے تیار تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے تقریباً 150 افراد کو مختلف مقامات سے حراست میں لیا، انہوں نے مظاہرین کی بسیں روکیں اور انہیں گرفتار کرلیا۔

خرم علی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے کوثر نیازی کالونی میں واقع کراچی بچاؤ تحریک کے آفس میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں سے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر لے گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین بلاول ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم ہم اپنے گرفتار ساتھیوں کی فکر تھی، پولیس نے زیادہ تر مظاہرین کو چھوڑ دیا تاہم اب بھی ہمارے کچھ لوگ لاپتہ ہیں۔

خرم نے بتایا کہ پولیس مظاہرین کو اپنی موبائلوں میں بٹھا کر لے گئی تاہم پولیس اسٹیشن کے راستے میں ہی زیادہ تر کو چھوڑ دیا گیا تھا، ہم نے پولیس اسٹیشنز سے رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ انہوں نے تمام مظاہرین کو چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسے پسماندہ خاندانوں جنہوں نے گجر نالہ اور اورنگی ٹاؤن نالوں پر انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران اپنے لیز مکانات کھودیئے، کیلئے اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

خرم علی کا کہنا ہے کہ ان سے پیپلزپارٹی کے رہنماء اور صوبائی وزیر سعید غنی نے رابطہ کیا اور بات چیت کرنے کیلئے سندھ اسمبلی بلایا ہے۔

واقعے کے بعد وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ مظاہرے میں شریک کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا، احتجاج کرنا ہر ایک کا آئینی حق ہے۔

اپنی ٹویٹ میں سعید غنی کا کہنا تھا کہ میں مظاہرے کے منتظمین سے رابطے کی کوشش کررہا ہوں کیونکہ پیپلزپارٹی پرامن احتجاج کی حامی ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء نے واضح کیا کہ تجاوزات مسمار کرنے کا آپریشن سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں کیا جارہا ہے۔

کراچی بچاؤ تحریک کے چیئرمین خرم علی نے تصدیق کی کہ پیپلزپارٹی کے رہنماء نے رابطہ کرکے سندھ اسمبلی آنے کا کہا ہے۔

کراچی بچاؤ تحریک ایک این جی او ہے جو کراچی کے برساتی نالوں  پر تجاوزات مسمار کرنے کے آپریشن کے آغاز سے فعال ہے۔

رواں سال مارچ میں پولیس نے کراچی بچاؤ تحریک کے چیئرمین خرم علی کو گجر نالے پر قائم مکانات مسمار کرنے کیخلاف لنڈی کوتل کے علاقے میں احتجاج کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔

متعلقہ خبریں