گرمیوں کی چھٹیاں: یورپی ایئر پورٹس پر مسافروں کے شدید رش کا خدشہ

فضائی سفر کی ایسوسی ایشنز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد سے ایئر پورٹس پر طبی معائنے کی شرط کے باعث گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سفر کے خواہشمند افراد کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ویکسین کی مہم میں پیش رفت اور کورونا کے کیسز میں کمی کے باوجود اکثر یورپی ایئر پورٹس پر سخت حفاظتی اقدامات نافذ العمل ہیں۔
بین الاقوامی ایسوی ایشن برائے فضائی سفر (آئی اے ٹی اے) کا گذشتہ ہفتے کہنا تھا کہ رش کے اوقات کے دوران سفر کرنے والوں کو ائیر پورٹ پر کم از کم تین گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا، جو سنہ 2019 کے مقابلے میں دگنا وقت ہے۔
مزید پڑھیں
کورونا وائرس کے بعد سے اب جہاز پر چڑھنے سے پہلے مسافر کا کورونا ٹیسٹ، اس کا درجہ حرارت اور دیگر طبی دستاویزات چیک کرنا ایئر لائنز کے لیے لازمی ہو گیا ہے۔
آئی اے ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر پورٹس پر انتظار کرنے کا وقت بڑھ گیا ہے جبکہ کورونا سے پہلے کے حالات کے مقابلے میں ٹریفک کا ہجم صرف 30 فیصد ہے۔
ایئر پورٹس کنٹرول انٹرنیشنل کی یورپی برانچ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگست میں 12 کروڑ 50 لاکھ افراد ہوائی سفر کریں گے۔ یہ تعداد دو سال قبل ہوائی سفر کرنے والوں کے مقابلے میں آدھی ہے۔
فضائی سفر کی سکیورٹی سے متعلق کمپنی ’یورو کنٹرول‘ نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال اگست میں سفر کرنے والوں کی شرح اگست 2019 کے مقابلے میں 46 سے 69 فیصد ہوگی۔ 

چند ایئر پورٹس پر بھی ویکسین لگوانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یورپی یونین کے 27 ممالک کا سفر آسان بنانے کے لیے یکم جولائی سے یورپی یونین ڈیجیٹل کووڈ سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جس سے معلوم ہو سکے گا کہ مسافر نے ویکسین لگوائی ہے، پہلے کسی انفیکشن کے باعث اس میں مدافعت پائی جاتی ہے یا مسافر کا کورونا ٹیسٹ منفی ہے۔
آن لائن ٹکٹ خریدنے کے بعد سے طبی معائنے کے باعث فضائی سفر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
تاہم فرانسیسی ائیر پورٹ پر ایک عہدیدار نے اس حوالے سے خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ چند اقدامات میں نرمی کی جائے گی جس سے سفر میں آسانی پیدا ہوگی۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹریفک کا ہجم زیادہ نہ ہونے کے باعث مسافروں کو ائیر پورٹ پر زیادہ مشکلات سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔