گلوبل وارمنگ سے ہلاکتیں، ’دنیا مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی‘

پیر 31 مئی 2021 19:47

کانفرنس میں یورپی یونین کے نمائندے نے کہا کہ ان کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

عالمی ماحولیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ گرمیوں میں تپش سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی سے زائد موسمیاتی تغیر کے باعث ہیں اور خبردار کیا ہے کہ جیسے دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان اموات کی شرح بھی بڑھے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے قبل ہونے والے ریسرچ میں بتایا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے اور مستقبل میں اس سے گرم ہواؤں کی لہر، خشک سالی اور جنگلات کی آگ سمیت کئی مسائل میں شدت آئے گی۔ 
مزید پڑھیں
دوسری جانب ماحولیات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے ملکوں پر زور دیا ہے کہ سرسبز کرہ ارض کے گوبل انیشیٹیو پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ اس حوالے سے ’دنیا مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے ماحولیات جان کیری نے جنوبی کوریا کی جانب سے منعقد کی گئی پی فور جی کانفرنس میں کہا کہ ’ہم دیگر ممالک کو بھی کہہ رہے ہیں کہ اس حوالے سے اپنی رائے دیں۔
اس سے قبل ویتنام نے ترقی یافتہ ممالک سے کہا کہ وہ اس حوالے قیادت کریں اور دوسروں کے لیے مالی معاونت دیں۔ جان کیری نے ویتنامی وزیراعظم سے کہا کہ ’ہم سب کو یہ کرنا ہے۔
جان کیری کا کہنا تھا کہ ’کورونا کی وبا آنے کے بعد ہر کوئی چاہتا ہے کہ حالات معمول پر آ جائیں۔
نومبر میں گلاسکو میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کانفرنس ہو رہی ہے اور سائنسدان پہلے ہی موجودہ صورتحال پر خبرادر کر رہے ہیں۔
اس دو روزہ ’پی فور جی‘ کانفرنس میں عالمی لیڈروں نے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مزید کام کرنے پر زور دیا۔

پیرس معاہدے میں درجہ حرارت کے اضافے کو دو ڈگری سیلسیز تک محدود کرنے کا کہا گیا (فوٹو اے ایف پی)
پیرس معاہدے میں درجہ حرارت کے اضافے کو دو ڈگری سیلسیز تک محدود کرنے کا کہا گیا۔
تاہم زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والے بہت سے ممالک اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔
کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ’ہم مانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی، زمینوں کا بنجر ہونا اور قدرتی ماحول کی ابتری ہمارے وقت کے تین بڑے ماحولیاتی چیلنجز ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کو 1.5 سیلسیز تک رکھنے کے لیے گیسز کا اخراج آٹھ فیصد تک ہونا چاہیے۔
یورپی یونین کی چیف ارسلا وان ڈرلین نے کہا کہ ’یورپ اپنے حصے کا کام کرے گا۔ لیکن ہم یہاں اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہم سب اپنا حصہ ڈالیں۔
یہ ذاتی مفاد، باہمی مفاد اور مشترکہ مفاد کا معاملہ ہے۔