گوگل نے پکسل7 میں چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی دوبارہ متعارف کرا دی

گوگل گزشتہ دس سال سے فیشیل ریکگنیشن ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ فوٹو: روئٹرز

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے چہروں کی شناخت کرنے والی فیشیل ریکگنیشن ٹیکنالوجی ایک مرتبہ پھر اپنے اینڈرائڈ فونز پکسل میں متعارف کرا دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فیشیل ریکگنیشن کی پرفارمنس اور اس پر آنے والی لاگت سے متعلق چیلنجز کے باعث کچھ عرصے کے تعطل کے بعد یہ ٹیکنالوجی دوبارہ متعارف کرائی گئی ہے۔
گوگل کے نئے فون پکسل 7 کا یہ نیا فیچر ایپل کی فیشیل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے مقابلے میں فون کو ان لاک کرنے میں اتنا مؤثر نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
روشنی کم ہونے کی صورت میں پکسل 7 کو چہرے کی شناخت میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ڈیٹا چوری ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ فیچر ابھی اس حد تک محفوظ نہیں ہے کہ اس کے ذریعے ایپس میں لاگ ان کیا جائے یا پھر آن لائن ادائیگی کی جائے۔
گوگل نے سخت اقدامات لیتے ہوئے اپنی مصنوعات میں سے فیشیل ریکگنیشن کی ٹیکنالوجی والا فیچر ہٹا دیا تھا، جس کی ایک وجہ سیاہ رنگت والے افراد کے چہرے پہچاننے میں دشواری تھی۔
یہ ٹیکنالوجی گوگل نے سال 2019 میں پکسل فون میں متعارف کرائی تھی جس کی صلاحیت پر سوال اٹھنے کے بعد کمپنی نے اس کا جائزہ لیا۔
گوگل نے اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت سے متعلق مخصوص سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ فیس ریکگنیشن کے ترقی یافتہ ماڈلز کی وجہ سے پکسل سیون اور پکسل سیون پرو میں ‘فیس ان لاک‘ کا فیچر اس مرتبہ مختلف انداز میں متعارف کیا گیا ہے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ سامنے والے کیمرے کے ذریعے چہرے کی درست شناخت کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی گئی ہے۔
اینڈرائڈ سمارٹ فونز میں چہرے کی شناخت کر کے فون کو ان لاک کرنے کے فیچر پر گزشتہ دس سال سے گوگل کام کر رہا ہے لیکن کمپنی پر دباؤ اس وقت آیا جب ایپل نے یہ ٹیکنالوجی ستمبر 2017 میں متعارف کرا دی۔
گوگل سمارٹ فونز میں چہرے کی شناخت یا فیس آئی ڈی کے فیچر کی پرفارمنس اس کے فرنٹ کیمرا پر منحصر ہے، لیکن پچھلے سسٹم کی طرح اس سے ایپس کو ان لاک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی آن لائن ادائگیاں کی جا سکتی ہیں۔
گوگل کے مطابق کم روشنی اور دھوپ سے بچاؤ کی عینک پہننے کی صورت میں بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فون کو ان لاک کرنا مشکل ہو سکتا ہے، تاہم ایسی صورت میں فنگر پرنٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔