ہائی کورٹ حملہ کیس: ’میں تیار تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں‘

اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس میں چار وکلا کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ کہ جانب سے وکلا کو ہراساں کرنے کے معاملے پر سماعت کے دوران کہا کہ معاملہ اتنا سنگین ہوگیا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کی تیاری کی جارہی تھی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’وکلا کی جانب سے کوئی کثر نہیں رہ گئی تھی، بس صرف یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں، لیکن میں نے کہا کہ بے شک مجھے مار دیں مگر کوئی بھی ایکشن لے کر تماشا نہیں بننے دوں گا۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وکلا مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے اور احاطہ عدالت میں میڈیا نمائندگان پر تشدد بھی کیا، اگر ایسا کسی سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تو ریاست ان کے ساتھ کیا کرتی؟
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو بھی کہا تھا کہ وکلا بے شک مجھے مار دیں، ایسا ایکشن نہیں لیں گے جس سے ہائی کورٹ میدان جنگ بن جائے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا عدالت پہلے واضح کر چکی ہے کہ صرف ان وکلا کے خلاف کارروائی کریں جو واقعہ میں ملوث ہیں، جن وکلا پرصرف شبہ ہے ان کو تنگ نہ کیا جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’چیف جسٹس کو پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا مگر میرا کوئی غصہ نہیں یہ معاملہ قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے، بارز اور وکلا کو خود جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ بار کے عہدیداروں کو میں نے اس دن بے بس دیکھا۔‘
سیکرٹری ہائی کورٹ بار نے سماعت کے دوران کہا کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیٹی تشکیل دی جائے جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’آپ سب کو معلوم ہے کہ، یہ سب کس نے کیا اس کے لیے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔‘
وکلا کے نمائندوں نے عدالت میں بتایا کہ کسی ایک وکیل کا نام آتا ہے تو پولیس اس نام والے تمام وکلا کو ہراساں کرنا شروع کر دیتی ہے۔ 
دوسری جانب چیف کمشنر اسلام آباد نے معاملے کی  تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ جے آئی ٹی میں پولیس اور حساس اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ 
جے آئی ٹی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی سٹی، آئی ایس آئی، اور آئی بی کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں۔ 
جے آئی ٹی اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار سے مدد لے کر رپورٹ تیار کرے گی۔