ہانگ کانگ میں ’بم بنانے‘ کے الزام میں سیکنڈری سکول کے چھ طلبا گرفتار

ہانگ کانگ میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد بنانے کی کوشش کرنے پر دہشتگردی کے الزام میں جن نو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سیکنڈری سکول کے چھ طلبا بھی شامل ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پانچ مردوں اور چار خواتین جن کی عمریں پندرہ سے 39 سال کے درمیان ہیں، کو پیر کے روز دھماکہ خیز مواد کو دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
مزید پڑھیں
سینیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ سٹیو لی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’ہاسٹل میں بنائی گئی لیبارٹری میں دھماکہ خیز مواد ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پر آکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) تیار کرنے کی کوشش پر ایک گینگسٹر کے خلاف آپریشن کیا گیا۔‘
پولیس نے بتایا کہ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں چھ نو عمر طلبہ اور تین بالغ افراد شامل ہیں۔
لی کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ریلوے نیٹ ورک، کمرہ عدالت سمیت عوامی مقامات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاکہ ’زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔‘
حکومت مخالف جذبات میں اضافہ 2019 میں نئے قومی سلامتی کے قانون کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کے دوران دیکھنے میں آیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد عوامی مقامات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
پولیس حکام نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے اس گروپ سے کئی اشیا اپنے قبضے میں لی ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد، ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پر آکسائیڈ بنانے کے لیے سامان، ایئر گنز، موبائل فونز، سم کارڈز اور نقدی وغیرہ شامل ہے۔
پولیس کی جانب سے گذشتہ دو برسوں میں بم حملوں کے شبے میں کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اگرچہ کوئی بھی بڑا حملہ کامیاب نہیں ہو سکا۔
اپریل میں ایک 29 سالہ شخص کو ایک کلو گرام ٹی اے ٹی پی (دھماکہ خیز مواد) بنانے کے الزام میں 12 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔