ہانیہ عامرکا یوٹیوبرزکیلئے کوئی نئی نوکری ڈھونڈنے کا مشورہ

فائل فوٹو

اداکارہ ہانیہ عامر نےایسے انفلوئنسرزاوریوٹیوبرز کے سامنے ایک سوال رکھا جو سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے میں معاشرے میں تبدیلی نہیں آسکی ۔

ہانیہ نے انسٹا اسٹوریزمیں لکھا ” پھر آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟ اگر تبدیلی یہاں اہمیت نہیں رکھتی تو آپ انفلوئنسرکس بات کے ہوئے؟ جائیں کوئی اور نوکری ڈھونڈیں ”۔

لگتا ہے کہ اداکارہ کی یہ برہمی بےوجہ نہیں، گذشتہ ہفتے معروف یوٹیوبر عرفان جونیجو نے ایک ویڈیو شیئرکی تھی جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے ویڈیوز نہ بنانے پرموصول ہوئی۔

یوٹیوبر نے اعتراف کیاتھا کہ وہ یہ ویڈیو شوٹ کرنے سے قبل خوفزدہ تھے کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ لوگوں کو کیا چیزپریشان کرتی ہے۔ اگر چہ عرفان جونیجو 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے اسٹوریز پوسٹ کرچکے ہیں لیکن لوگ اُن سے اس سے زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔

ویڈیو میں فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے سے متعلق عرفان جونیجو کا کہنا تھا کہ جذباتی تقاریر اور غصے کے علاوہ میں اس گفتگو میں کیا چیز شامل کر سکتا ہوں؟ مجھے لگتا ہے کہ جذبات کے ذریعہ اس مسئلے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے یوٹیوب صحیح پلیٹ فارم نہیں ہے ، جب تک کہ آپ اس موضوع پرمکمل عبور نہ رکھتے ہوں اور اس حوالے سے بات کرنے کا طریقہ نہ جان لیں۔

اس سے قبل گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں رہائش پزیرجرمن یوٹیوبرکرسٹین بیٹزمین کو بھی ان کے موقف پرشدید تنقید کاسامنا کرنا پڑا، کرسٹین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پرفلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے والوں کو اس حوالےسے کوئی مدد حاصل نہیں ہوگی۔

مسئلہ فلسطین پرطنزیہ رویہ: زویاناصر اور کرسٹین بیٹزمین کے راستے الگ

دوسری جانب ہانیہ عامر اس سے قبل بھی کئی بار واضح کرچکی ہیں کہ ظلم کی مذمت کی جائے تو اس کا اثرپڑتا ہے۔ انہوں نے فالوورزپر زوردیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بات کریں اورفلسطین کے حوالے سے کم از کم 2 ٹویٹس ضرورشیئر کریں۔

متعلقہ خبریں