’ہر شام دروازے پر بیٹھ کر بیٹے کا انتظار کرتی ہوں‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج کیا جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔
منگل کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کوئٹہ میں پریس کلب سے نکالی گئی ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصاویر، بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر گمشدہ افراد کی فوری بازیابی کے مطالبات درج تھے۔
ریلی کے شرکا نے مختلف شاہراہوں پر گشت کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب زرغو ن روڈ پر دھرنا بھی دیا۔
مزید پڑھیں
لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ  نے اس موقع پر بتایا کہ ‘آج کا احتجاج بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے لاپتہ رہنما ذاکر مجید کی ماں کی اپیل پر ہورہا ہے جو 2009 سے لاپتہ ہے۔ ہم اسمبلی کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کرنا  چاہتے تھے مگر پولیس نے ہمیں آگے جانے نہیں دیا۔’
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتی دعوؤں کے باوجود جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہیں رکا۔ لاپتہ افراد کی واپسی کے انتظار میں ان کے لواحقین کی زندگیاں عذاب بن گئی ہیں۔ ہمارا ہر لمحہ درد اور تکلیف سے بھرا ہے۔ ہم طویل انتظار کے بعد ناامید اور مایوس ہوچکے ہیں۔’
سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ ’انصاف کے اداروں کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہے۔ لاپتہ افراد پر اگر الزامات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔‘
احتجاج میں 12 سال سے لاپتہ بی ایس او کے رہنما ذاکر بلوچ کی والدہ بھی شریک تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ذاکر مجید ایک طالب علم تھا جسے 2009 میں خضدار سے آتے ہوئے دو دیگر ساتھیوں سمیت لاپتہ کیا گیا۔ باقی دو لوگ بازیاب ہوگئے مگر بارہ سال سے ہم ذاکر مجید کی راہ تک رہے ہیں۔‘
‘میں ہر شام گھر کے دروازے پر بیٹھ کر ذاکر کا انتظار کرتی ہوں۔ مجھے کس چیز کی سزا جارہی ہے ، میرے بیٹے کا کیا قصور ہے۔’

لاپتہ ذاکر مجید کی والدہ نے کہا کہ ’انہوں نے پوتے پوتیوں کو کشیدہ کاری کر کے پالا پوسا ہے‘ (فوٹو: اردو نیوز)
ان کا کہنا تھا کہ میرے شوہر کا قتل ہوا۔ ‘سب سے بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے ذاکر مجید گھر کا واحد سہارا تھا مگر اسے 12 برسوں سے ہم سے دور رکھا گیا ہے۔ اس کے بچے باپ کی شفقت سے محرو م ہیں۔ میں نے ذاکر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو کشیدہ کاری کرکے پالا ہے۔’
احتجاج میں شریک بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سابق سینیٹر لشکری رئیسانی  کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو قومی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ عدالتی اور پارلیمانی راستے بند کرکے آئین سے بالاتر اقدامات سے ملک کو مزید نقصان پہنچے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کو حقوق دینے چاہییں تاکہ 73 سال سے حل طلب بلوچستان کا مسئلہ حل ہو۔‘