’ہسپتال شناختی کارڈ کے بغیر داخل نہیں کرتا، ویکسین کیسی؟‘

یوں تو پاکستان بھر میں سرکاری سطح پر 19 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے لیکن لاکھوں باشندے ایسے بھی ہیں جو خواہش کے باوجود یہ ویکسین نہیں لگوا سکتے۔
حکومتی سطح پر جاری اس ویکسینیشن کے عمل کا حصہ بننے کے لیے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے وفاق اور صوبوں میں لوگوں کی کورونا ویکسینیشن کے لیے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروایا گیا ہے جس میں قومی شناختی کارڈ نمبر کی انٹری کے بعد ہی مذکورہ فرد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
اس سسٹم کے تحت یا تو پاکستان کے شناختی کارڈ ہولڈر ویکسین لگوانے کے اہل ہیں یا پھر وہ رجسٹرڈ افغان شہری جن کے ’پروف آف رجسٹریشن‘ کارڈ بنے ہوئے ہیں۔
لیکن لاکھوں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس نہ تو پاکستان کا شناختی کارڈ ہے اور نہ ہی ’پروف آف رجسٹریشن کارڈ‘ ہے۔
ان لوگوں میں اکثریت سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) اور برما سے آئے ہوئے ان افراد کی ہے جو پاکستان کو اپنا وطن بنانے کے خواہشمند تھے اور ان کی کئی نسلیں کئی دہائیوں سے پاکستان میں آباد چلی آ رہی ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک پاکستان کی شناختی دستاویزات حاصل نہیں کر سکے۔ اور حکومت کی جانب سے ایسے شناخت سے محروم رہائشی افراد کی ویکسینیشن کے لیے تاحال کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق آج بھی پاکستان میں 14 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جبکہ سات ہزار کے قریب صومالیہ اور چند دیگر ممالک کے پناہ گزین موجود ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان میں بنگلہ دیش اور برما کے تقریباً 20 لاکھ کے قریب غیر رجسٹرڈ پناہ گزین بھی موجود ہیں جن کو اقوام متحدہ ایسے پناہ گزین تصور کرتا ہے جن کا کوئی وطن نہیں ہوتا، یعنی ان کو نہ تو وہ ملک اپنا شہری تسلیم کرتا ہے جہاں سے وہ آئے ہوتے ہیں اور نہ ہی جہاں وہ پناہ گزین ہوتے ہیں۔

شیخ سراج نے بتایا کہ ان کے علاقے واحد کالونی میں حکومت کی جانب سے ویکسین سینٹر تک نہیں بنایا گیا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
یہ لوگ دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہیں، ان کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور یہ اس وقت کراچی کی کچی آبادیوں واحد کالونی، مچھر کالونی، ضیا کالونی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
بنگالی پناہ گزینوں کی تنظیم ’پاک بنگالی اتحاد‘ کے جنرل سیکریٹری شیخ سراج کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع میں 20 لاکھ سے زائد بنگالی اور بہاری آباد ہیں لیکن انہیں بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں۔
ان کے مطابق چونکہ حکومت ان کی شناخت تسلیم ہی نہیں کرتی لہٰذا ان کی بہبود کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
جن افراد کو پہلے قومی شناختی کارڈ جاری  کیے گئے تھے، کمپیوٹرائزڈ نظام آنے کے بعد ایسے افراد کے کارڈز بلاک کر کے ان کے پورے خاندان کو بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے۔
ان کو تعلیم، روزگار، صحت اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں کیونکہ حکومتی پالیسی کے تحت ان سب کاموں کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے جو بنگالی پناہ گزینوں کو حاصل نہیں۔

شیخ سراج کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث بیشتر بنگالی افراد گھروں میں ہی علاج کروا رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے جاری ویکسینیشن میں ان افراد کا کہیں تذکرہ ہی نہیں۔
شیخ سراج نے بتایا کہ ان کے علاقے واحد کالونی میں حکومت کی جانب سے ویکسین سینٹر تک نہیں بنایا گیا۔ اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کسی نمائندے نے ان سے ویکسین لگانے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال میں علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث بیشتر بنگالی افراد گھروں میں ہی علاج کروا رہے ہیں، اور اسی میں کئی اموات بھی ہو رہی ہیں۔ ہسپتال تو شناختی کارڈ کے بغیر داخل ہی نہیں کرتا، ایسے میں علاج یا دوا کیسے ممکن ہو۔‘
حکومت سندھ کے محمکہ صحت کی ترجمان مہر خورشید تسلیم کرتی ہیں کہ ابھی تک محکمہ صحت کے پاس شناخت سے محروم افراد کی ویکسینیشن کے لیے کوئی مربوط نظام نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کا ’فارم ب‘ بن چکا ہے اور شناختی کارڈ نہیں بنا وہ یہ فارم دکھا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے ایسا سسٹم بنانے پر کام جاری ہے جس کے ذریعے محض انگھوٹے کا نشان لگا کر ویکسین لگوائی جا سکے گی، اور انگوٹھے کے نشان بھی کسی تصدیق کے لیے نہیں بلکہ شناخت کے لیے استعمال ہوگا تاکہ ویکسین لگوانے والوں کی تعداد اور انہیں لگنے والی خوراک کا حساب رکھا جا سکے۔‘
مہر خورشید کا کہنا تھا کہ اس نظام کے اجرا کے بعد وہ تمام افراد بھی ویکسینیشن کروا سکیں گے جنہیں شناختی کارڈ جاری نہیں ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مسلم لیگ شیر بنگال کے سربراہ ڈاکٹر علاؤالدین احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’مچھر کالونی میں فشریز کے قریب ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بنگالی کمیونٹی آباد ہے مگر اس علاقے میں بھی کوئی ویکسینیشن سینٹر قائم نہیں ہوا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کمیونٹی کے کسی فرد نے تاحال ویکسین نہیں لگوائی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی ضروریات کے مسائل اور سہولیات کا فقدان ہے، ایسے میں کورونا ویکسینیشن کی طرف تو لوگوں کا دھیان بھی نہیں۔
’جہاں دو وقت کی روٹی پوری کرنا مسئلہ ہو، وہاں کیسی ویکسینیشن؟‘ وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے علاج معالجے کی بنیادی سہولیات تو دستیاب ہوجائیں، پھر کورونا ویکسین بھی لگوا لیں گے۔‘