ہلاکت خیزنیگلیریا:کراچی آنیوالا 70 فیصد پانی کلورین سے عاری

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی پانی کے معیار سے متعلق نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنز سے ملنے والے 70 فیصد پانی میں یا تو کلورین نہیں ہوتی یا پھر وہ ہلکی مقدار میں ہوتی ہے، یہ وہ ہی کلورین ہے جو نیگلیریا جیسے جان لیوا مرض میں تحفظ کا کام کرتی ہے۔ کلورین نہ ہونے کی وجہ سے نیگلیریا کے جراثیم ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور دماغ کو سوزش کے مرض میں مبتلا کردیتے ہیں، جس کے بعد 4 سے 5 دن میں دماغ آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میں حالیہ دنوں میں 2 افراد نیگلیریا کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔ سندھ ڈائریکٹوریٹ آف جنرل ہیلتھ سروسز کی ہدایت پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے پمپنگ اسٹیشنز سے فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونوں کا معائنہ کیا اور یہ پتا لگایا کہ عالمی ادارہ صحت کے متین کردہ اصولوں کے مطابق یہ کلورین کتنی مقدار میں اور کس انداز میں پانی میں شامل کی جاتی ہے۔

یہ جرثومہ انتہائی مہلک ہے اور دماغ میں انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ یہ جراثیم سوئمنگ پولز اور جھیلوں سمیت دیگر کھڑے ہوئے پانیوں میں ہوسکتا ہے۔ نیگلریا کے جراثیم ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔

کچھ کیسز میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نیگلیریا کے جراثیم ایسے سوئمنگ پولز کے پانیوں میں بھی موجود ہوتے ہیں، جس میں کلورین کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے یا بظاہر صاف نظر آنے والا گرم پانی بھی نیگلریا کی پرورش کا ذریعہ بنتا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق آپ براہ راست ایسا پانی پینے سے نیگلیریا میں مبتلا نہیں ہوسکتے۔

عالمی بینک میں کراچی واٹر سیوریج سروس امپروفمنٹ پراجیکٹ کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق کراچی کے 123 پمپنگ اسٹیشنز میں سے 87 اسٹیشنز ایسے ہیں جہاں کا پانی کم کلورین یا بغیر کلورین کے لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ سیمپلز کیلئے پانی کے نمونے ہائی ڈرینٹ، کنویں، کڈنی ہل اور یونی ورسٹی روڈ سمیت دیگر پمپنگ اسٹیشنز سے لیے گئے۔

سما ڈیجیٹل کو حاصل دستاویزات کے مطابق کڈنی ہل سے منسلک 7 پمپنگ اسٹیشنز جو پانی فراہم کر رہے ہیں، جب کہ دیگر 7 ایل ایس آر یعنی کم تعداد میں پانی فراہم کرنے والے اسٹیشنز اور کنڈیوٹ سے منسلک 10 اسٹیشنز کے پانی میں یا تو کلورین موجود ہی نہیں اور اگر موجود ہے تو اس کی مقدار انتہائی کم ہے۔

علاوہ ازیں گھارو فلٹر پلانٹ سے ملحقہ 23 ایسے پمپنگ اسٹیشنز جو ہالیجی جھیل کا پانی مہیا کر رہے ہیں اور حب ایف پی ، حب سی او ڈی سے منسلک 9، پپری اور این ای کے تین تین اور این ای کے 2 سے جڑے دو، جب کہ 14 دیگر جب کہ دیگر 14 پمپنگ اسٹیشنز کا بھی کم و بیش یہ ہی حال ہے۔

کلورینیشن کیا ہے ؟

کلورین ایک گیس ہے، جب کہ کلورینیشن ایک عمل کا نام ہے، جس میں کلورین کو ایک مخصوص مشین کی مدد سے مقررہ مقدار میں پانی میں ملایا جاتا ہے، جو کلورینیٹر کہلاتا ہے۔ اس تمام عمل سے حاصل سلوشن کو پانی کے ذخائر میں ملایا جاتا ہے تاکہ وہ جراثیم کا خاتمہ کرسکے۔

پانی کو کیوں کلورائٹ کیا جاتا ہے ؟

پانی میں کلورین اس لیے ملایا جاتا ہے یا اسے کلورینیٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ جراٗثیم، وائرس اور بیکٹیریا کو ختم کرسکے۔ کلورین ملے پانی کو پینے سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا ہے۔

سما ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں کے ڈبلیو ایس بی کے نمائندے نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دی گئیں ہدایات کے مطابق لوگوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں 0.5 پی پی ایم کے حساب سے کلورین موجود ہونا لازمی ہے، جو جراثیم کے خلاف مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

ادارے کے اعلیٰ افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 87 میں سے 33 پمپنگ اسٹیشنز  شہر کو 33 فیصد پانی مہیا کرتے ہیں اس میں یا تو کلورین موجود ہی نہیں یا پھر اس میں کلورین کی مقدار نہایت کم ہے۔ یہ پانی ایسے اسٹیشنز سے آتا ہے جو کھلے آسمان تلے بنے ہیں اور کنڈیوٹ کے ذریعے پانی فراہم کرتے ہیں۔

ادارے کے افسر کا مزید کہنا تھا کہ پانی میں مقررہ تعداد میں کلورین شامل تو کی جاتی ہے، تاہم چونکہ یہ ایک گیس ہے تو وہ آبی بخارات کی شکل میں اڑ جاتی ہے اور گھروں کو پانی پہنچتے پہنچتے اس میں یا تو کلورین انتہائی کم رہ جاتی ہے یا مکمل ختم ہوجاتی ہے۔

مثال کے طور پر شہر کو ایک روز میں 25 ملین گیلن پانی ہالیجی کنڈیوٹ سے فراہم کیا جاتا ہے۔ گھارو پمپنگ اسٹیشن پر قائم یہ جگہ شہر سے 50 کلو میٹر دور ہے، تاہم کراچی پہنچتے پہنچتے یہ فاصلہ طے کرنے کے دوران کلورین ہوا میں محلول ہوجاتا ہے۔

حکام کے مطابق پانی میں کلورین کی کم مقدار کم پریشر کی وجہ سے ہے۔ 40 پی ایس آئی سے 100 پی ایس آئی پریشر کے پانی میں کلورین گیس شامل تو کی جاتی ہے تاہم واٹر بورڈ پریشر برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں اور اس کی وجہ سے کلورین پانی سے غائب ہوجاتی ہے۔

واٹر بورڈ کی جانب سے دیی گئیں یہ وضاحتیں سابق واٹر بورڈ چیف انجینیر جاوید شمیم نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پانی میں مقررہ مقدار میں کلورین شامل ہی نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے متین کردہ اصول کے مطابق واٹر بورڈ کو 2 پی پی ایم یا زیادہ سے زیادہ 5پی پی ایم مقداد میں کلورین کو پانی میں شامل کرنا چاہیئے تاکہ جب وہ لوگوں تک پہنچے تو اس میں 0.5 پی پی ایم تک کلورین موجود ہو۔

انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ 650 ایم جی ڈی میں صرف 30 سے 32 ایم جی ڈی پانی کنڈیوٹ کے ذریعے سپلائی کیا جا رہا ہے باقی ماندہ پانی واٹر بورڈ کے 6 فلٹر پلانٹ سے فراہم کیا جارہا ہے۔

جاوید شمیم نے یہ بھی بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک بار کلورین کو پانی میں شامل کردیا جائے تو وہ محلول، یا آبی بخارات کی شکل میں اڑ جائے۔ کلورین پانی میں 110 گھنٹے تک رہ سکتی ہے۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ شہر قائد کو ملنے والا پانی مختلف ذرائع سے لوگوں تک پہنچتا ہے مگر ایسا نہیں کہ پانی پہنچتے پہنچتے کئی دن لگ جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کینجھر جھیل سے پانی شہر کی جانب جاتا ہے تو وہ بھی 16 سے 18 گھنٹوں میں پہنچ جاتا ہے، ہاں اگر یہ ہی سپلائی پمپنگ اسٹیشنز کے ذریعے ہو تو اسے میں 4 سے 5 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔

جاوید شمیم کے بیان پر مہر ثبت کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محسن علی کا کہنا تھا کہ پانی میں شامل کی گئی کلورین کچھ حد تک تو ہوا میں آبی بخارات بن کر غائب ہوسکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ تمام پانی سے مکمل طور پر کلورین شامل ہونے کے بعد غائب یا ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کو اس بات کا اندازہ لگانا چاہیئے کہ صارفین تک پانی پہنچنے تک کتنی مقدار میں کلورین پانی سے کم ہوئی ہے۔ جس کے بعد اس کی مقدار میں اضافہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں