ہمارے پاس ڈالرز چھاپنے کی مشین نہیں ہے،وزیرخزانہ

وزیر خزانہ کی اسمبلی میں گفتگو

وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہماری مجبوری تھی کیوں کہ ہمارے پاس ڈالرز چھاپنے کی مشین نہیں ہے جبکہ ہمیں سابقہ حکومت کے لیے گئے قرضوں پر سود کی مد میں 30 ارب ڈالر ادا کرنے تھے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنما اس وقت کیوں خاموش تھے جب ن لیگ حکومت نے 10 بلین ڈالر کے شارٹ ٹرم قرضے حاصل کیے تھے۔

شوکت ترین نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ اگر تحریک انصاف حکومت سے قبل معیشت اتنی اچھی تھی تو پھر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر کیوں تھا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے قرضوں کی واپسی کے لیے ہمیں آئی ایم ایف جانا پڑا اور آئی ایم ایف نے قرضہ دینے کے لیے سخت شرائط رکھ دیں جس سے ملکی معیشت نیچے چلی گئی۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ اس مشکل صورتحال میں کرونا وبا بھی آئی مگر یہ کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ ان کے زراعت، تعمیراتی سیکٹر اور ایکسپورٹ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے معیشت بہتر ہونا شروع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ نئی معاشی پالیسی کے تحت زراعت، صنعت اور ایکسپورٹ بڑھانے پر کام کررہے ہیں۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد ہے جو خطے کے تمام ممالک سے کم ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ ایسی اشیاء کی درآمد ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ 10 سال سے زراعت کی ترقی پر کوئی کام نہیں کیا اور اس وقت ہم 70 فیصد دالیں باہر سے درآمد کررہے ہیں۔شوکت ترین نے کہا کہ احساس پروگرام کےلیے بجٹ میں 160 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ورلڈ بینک کے سروے کے مطابق احساس پروگرام دنیا بھر میں سوشل پروگراموں میں چوتھے نمبر پر آیا ہے۔

متعلقہ خبریں