ہم سب پی ٹی آئی میں تھے،ہیں اور رہیں گے،جہانگیرترین

ایف آئی آرز کا چینی اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں۔

جہانگير ترين نے کہا ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہيں اور وزيراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحريکِ عدم اعتماد نہيں لارہے ہیں۔

بدھ کو لاہور سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئے جہانگير ترين نے کہا کہ علی ظفر ہماری بات غور سے سن رہے ہيں۔ وزيراعظم کہہ چکے ہيں کہ وہ انصاف پسند ہيں اور انصاف ديں گے۔

جہانگير ترين نےبتایا کہ پنجاب حکومت نے دباؤ ڈالنا شروع کرديا۔ پنجاب حکومت کےاقدام پر اسمبلی ميں گروپ بنايا تاہم پی ٹی آئی کا حصہ ہيں اور رہيں گے اور اس پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ انتقامی کارروائيوں کی تفصيل ميں جاؤں گا اور نہ کسی کا نام لوں گا۔ پنجاب حکومت اپنی کارروائیاں بند کرے،بیٹھےاور بات کرے۔ ہمیں اب اسمبلیوں میں بات کرنی ہے۔

جہانگير ترين نے وضاحت دی کہ گروپ تين ماہ سے بنا ہوا ہے اور کل نہيں بنا۔ گروپ کے جو بھی فيصلے ہوں گے وہ اجتماعی ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان ایف آئی آرز کا چینی اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے سب سوالات کی منی ٹریل دی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2021 میں ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

مقدمے کے مطابق جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے نے ایک غیر ملکی کمپنی میں تین ارب روپے سے زیادہ کے حصص (شیئرز) غیر قانونی طور پر منتقل کیے ہیں جو کہ منی لانڈنرنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں