ہم مغرب یا امریکا مخالف نہیں، فیصل واوڈا

رہنما تحریک انصاف فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ ہم امریکا یا مغرب کے مخالف نہیں ہیں مگر ہمیں پاکستان کے مفادات اور خودمختاری عزیز ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پاکستان کا مفاد ایک ہے اور ہم ہر وہ اقدام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جو مؤقف آج عمران خان کا ہے یہ کبھی پی پی اور ن لیگ کا نہ تھا اور نہ کبھی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیسز کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بیرون ملک جائیدادیں نہیں ہیں نہ ہی وہ کسی ملک کا اس طرح اثاثہ ہیں جیسے نوازشریف سعودی عرب کا اثاثہ تھے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی معاملات میں فوج سے مشاورت ضرور ہونی چاہیے لیکن پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے اور فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ق لیگ سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں۔
وزیراعظم کے جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ہمیں یکجہتی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس معاملے پر ملک میں شعور اور آگہی کی کمی ہے اور جن لوگوں کو تعلیم وتربیت ملی ہے وہ ان جرائم میں کم ملوث ہوتے ہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم میں ملوث مجرمان کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں اور جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو سول سوسائٹی اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ محسن شاہ نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کی حکومت نے یمن کے معاملے پر قومی اتفاق رائے قائم کیا تھا۔
محسن شاہ نواز کا کہنا تھا کہ قومی مفاد سے متعلق فیصلے ایوان میں کیے جانے چاہئیں کیوں کہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی نہیں جائے گا چاہے وہ اپوزیشن ہو یا حکومت۔
انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد نوازشریف نے فوج اور تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا اور ایک قومی یکجہتی دکھانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا ق لیک والے حکومت کے ساتھ بس دن گزار رہے ہیں وہ تجربہ کار سیاستدان ہیں انہیں پتہ ہے کہ برے حالات میں کس طرح وقت گزارنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کو موجودہ دور میں مس ہینڈل کیا گیا ہے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور وزیراعظم نے نیوکلیئر پروگرام حتم کرنے کی آفر کردی۔

متعلقہ خبریں