ہوسکتا ہےلانگ مارچ کی ضرورت پیش نہ آئے،مریم

یہ حکومت روٹی،پانی،بجلی اور ووٹ چور ہے

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رہنما حمزہ شہباز کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا۔ جیل کے باہر مریم نواز شریف نے ان کا استقبال کیا۔

حمزہ شہباز کو 20 ماہ بعد جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کے 1، 1 کروڑ کے 2 مچلکوں کے عوض حمزہ شہباز کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ احتساب عدالت ڈیوٹی جج اکمل خان نے حمزہ شہباز کے روبکاری جاری کی۔

حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز کيس ميں ضمانت منظور ہوئیں۔ حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کيس ميں 11جون سال 2019 کو گرفتار کيا گيا تھا۔

قبل ازیں کوٹ لکھپت جیل روانگی سے قبل جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز پارٹی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ حمزہ نے 2 سال ناحق جیل کاٹی ہے۔ حمزہ نے بہادری کیساتھ جھوٹے کیس کا مقابلہ کیا۔

ضمنی انتخاب پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایک حلقہ کھلا تو پوری اصلیت سامنے آگئی۔ یہ ایک حلقے کا ری الیکشن برداشت نہیں کرسکتے، اس لئے چیلنج کر رہے ہیں۔ سینیٹ الیکشن پر میں کچھ نہ کہوں تو بہتر ہے۔ میری تمام تر توجہ ڈسکہ ضمنی انتخاب پر ہے۔ یہ ری الیکشن سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم این ایز جانتے ہیں عمران خان کی کارکردگی نے ان کے ووٹ بینک پر اثر ڈالا ہے۔ عمران خان کا دوبارہ آنے کا چانس نہیں ہے۔ یہ لوگ اب گئے تو دوبارہ حکومت میں نہیں آئیں گے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مریم کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی خود رابطے کر رہے ہیں اور اچھا کر رہے ہیں۔ وہ دونوں پارٹیوں کیلئے خدمات انجام دے رہیں ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رہنما حمزہ شہباز کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے احکامات 27 فروری بروز ہفتہ موصول ہوئے۔ روبکاری ملنے پر جیل کے باہر ن لیگی کارکنوں کا ہجوم جمع ہوگیا ، جنہوں نے اپنے رہنما کے حق میں نعرے اور خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کرنا شروع کردیں۔

ن لیگی قیادت کی جانب سے حمزہ شہباز کو ريلی کی صورت ميں ماڈل ٹاؤن لے جايا جائے گا۔ اس سلسلے میں 12 مقامات پر حمزہ شہباز کيلئےاستقبالی کيمپ لگائے گئے ہيں۔

متعلقہ خبریں