’ہٹلر صحیح تھا‘ کہنے پر بی بی سی کی اپنی صحافی کے خلاف تحقیقات

برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) فلسطین میں اپنی صحافی کی اس ٹویٹ کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ہٹلر کی تعریف کی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق تالا حلاوہ کی یہ ٹویٹ 2014 کی ہے جب وہ بی بی سی کے ساتھ منسلک نہیں تھیں۔
اس ٹویٹ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے ایک طرف تو اسرائیلی ڈیفینس فورس (آئی ڈی ایف) کی مذمت کی تھی اور دوسری جانب ہٹلر کی تعریف کرتے ہوئے ہیش ٹیگ میں لکھا کہ ’ہٹلر صحیح تھا۔‘
مزید پڑھیں
تالا حلاوہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اسرائیل، ہٹلر سے بڑا نازی ہے! اوہ ہٹلر صحیح تھا۔ آئی ڈی ایف جہنم میں جاؤ۔ غزہ کے لیے دعا کریں۔‘
تالا حلاوہ بی بی سی میں فلسطین کی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ٹویٹر اکاؤنٹ ’ہانسٹ رپورٹنگ‘ ان کی پرانی ٹویٹ کو دوبارہ منظر عام پر لایا ہے اور لکھا ہے کہ ’حلاوہ خبر کا مواد تیار کرتی ہیں اور اسے دنیا میں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔‘
بی بی سی کی صحافی نے غزہ میں حالیہ کشیدگی کی کوریج کی ہے اور انہوں نے فلسطین پر امریکی ماڈل بیلا حدید کی پوزیشن پر مضمون بھی لکھا ہے۔

بی بی سی نے کہا ہے کہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات ہو رہی ہیں (فوٹو اے ایف پی)
بی بی سی نے کہا ہے کہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔
تالا حلاوہ کی ٹویٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز پہلے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر ایمیلی وائلڈر کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔
ایمیلی وائلڈر نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے فلسطین اور اسرائیل درمیان حالیہ کشیدگی میں فلسطینیوں اور غزہ میں رہنے والوں کے ساتھ یکجہتی کی ٹویٹس کی تھیں۔