’ہیکرز کو تاوان ادا کرنے سے مستقبل میں مزید سائبر حملے ہوسکتے ہیں‘

دنیا بھر میں ویب سائٹس اور کمپیوٹر سسٹم کی ہیکنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ متاثرین کے لیے اس کے حل کے طور پر امریکی تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کرس رے نے درخواست کی ہے کہ وہ ہیکرز کو تاوان ادا کرنا بند کریں۔
کرس رے نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں ڈر ہے کہ اگر پبلک کمپنیاں اور دیگر متاثرین ہیکرز کو تاوان ادا کریں گے تو اس سے مستقبل میں مزید سائبر حملوں کو فروغ ملے گا۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پینل کے سامنے بات کرتے ہوئے کرس رے نے بتایا کہ تاوان ادا کرنے سے اس بات کی گارنٹی بھی نہیں ہوتی کہ متاثرین کو ان کا ہیک کیا گیا ڈیٹا واپس مل جائے گا۔
امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ امریکہ کی بڑی کمپنی کولونیئل پائپ لائن نے ہیکرز کو 23 لاکھ ڈالر تاوان کرپٹو کرنسی میں ادا کیا تھا جو کہ محکمے نے کمپنی کو واپس دلوائے تھے۔ کمپنی پر اس سائبر حملے سے امریکہ کے مشرقی ساحل کی طرف واقع ریاستوں کے گیس سٹیشنز کو گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایف بی آئی یہ رقم مذکورہ کمپنی کو واپس دلوانے میں اس لیے کامیاب ہوا تھا کیونکہ ان کے پاس ایک پرائیویٹ چابی تھی جس کے استعمال سے وہ بٹ کوائن کا ایک والٹ کھولنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جس میں سب سے زیادہ رقم تھی۔
امریکہ کی حکومت کی طرف سے بٹ کوائن کے رقم کی ریکوری کروانا عام بات نہیں ہے تاہم حکام اس کے لیے اپنی تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ ڈیجیٹل رقم کی لین دین پر نظر رکھی جا سکے۔

امریکی حکومت نے ایک کمپنی کی تاوان میں دی گئی کرپٹو کرنسی ریکور کی تھی۔ فائل فوٹو: ان سپلیش
کرس رے کے مطابق ایف بی آئی کی نظر میں کئی سائبر حملے آئے ہیں جس میں ہیکرز نے بڑی رقوم کے مطالبات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آئی نے ہیکرز کو ادا کی جانے والی رقم میں گذشتہ ایک سال کے عرصے میں تین گنا اضافہ دیکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنیاں اور میونسپل حکومتیں جنہیں سائبر حملوں کا سامنا ہو، انہیں چاہیے کہ جلد از جلد ایف بی آئی سے رجوع کریں۔
’اگر وہ ایسا کریں گے تو بہت کچھ ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین کو ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کا ڈیٹا بھی واپس دلوانے کی کوشش کر سکتے ہیں جس سے انہیں تاوان ادا نہیں کرنا پڑے گا۔