ہیکنگ نہ تخریب: اکیلے فرد نے نادانستگی میں انٹرنیٹ کا بڑا حصہ ڈاؤن کر دیا

جمعہ 11 جون 2021 18:02

کمپنی کے مطابق ایک فرد کی سرگرمی انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو ڈاؤن کرنے کا باعث بنی (فوٹو: فری پک)

چند روز قبل دنیا میں ای کامرس، انٹرٹینمنٹ، میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ کی متعدد ویب سائٹس ڈاؤن ہونے کی وجہ کوئی ہیکنگ یا تخریب کاری نہیں بلکہ ایک فرد کی جانب سے ’گہرائی میں سوئے ہوئے بگ‘ کو نادانستگی میں جگا دینا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد مواقع پر انٹرنیٹ کی سروسز متاثر ہوتی رہیں تاہم ان کی نوعیت کم از کم ایسی نہیں تھی جو حالیہ واقعے میں سامنے آئی ہے۔
چند روز قبل کلاؤڈ کمپیوٹنگ وغیرہ کی خدمات سے منسلک ادارے فاسٹلی کے ساتھ پیش آنے والے اچانک مسئلے سے امیزون، ریڈٹ، سپوٹیفائی، سی این این، بلومبرگ، شاپیفائی سمیت گلوبل آڈینس رکھنے والی درجنوں ویب سائٹس ڈاؤن ہو گئی تھیں۔
مزید پڑھیں
انٹرنیٹ کے ساتھ اچانک خرابی کا معاملہ سامنے آیا تو متعدد افراد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ہیکنگ یا تخریب کاری کی کوئی اور واردات نہ ہو، البتہ متاثرہ ادارے فاسٹلی کا کہنا ہے کہ خرابی کی وجہ ان کی ’سروس کنفیگریشن میں کی گئی تبدیلی تھی‘۔
کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک نے کسی کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ ایک کسٹمر نے اپنے معمول کے کام کے دوران چھ مئی کو کی گئی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ میں موجود خرابی کو زندہ کر دیا تھا۔ ’گہرائی میں دفن کی گئی اس خرابی کے زندہ ہونے نے کمپنی کے نیٹ ورک کے 85 فیصد حصے کو ڈاؤن کر دیا تھا۔‘
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ اس مسئلے سے بچنے کے لیے حل ڈھونڈ کر اس پر عمل کر لیا ہے۔ اب وہ اندرونی آڈٹ کر رہے ہیں کہ ٹیسٹنگ کے دوران بگ کی نشاندہی کیوں نہیں کی جا سکی تھی۔

فاسٹلی کے نائب صدر برائے انجینئرنگ اور انفراسٹرکچر نک راک ویل کے مطابق ’اگر چہ اس مسئلے کی خاص وجہ تھی لیکن ہمیں اس کا اندازہ کر لینا چاہیے تھا۔ ہم اپنی خدمات میں رکاوٹ کی وجہ بننے والے کسی بھی مسئلے کو انتہائی حساسیت سے اور ترجیحا دیکھتے ہیں۔‘
کمپنی کی بلاگ پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے صارفین سے اور جو ان پر انحصار کرتے ہیں، اس خرابی کی وجہ سے معافی مانگتے ہوئے ان کے تعاون پر شکرگزار ہیں۔‘
فاسٹلی کے مطابق اس نے مسئلہ پیدا ہونے کے بعد پہلے ہی منٹ میں خرابی تلاش کر لی تھی، جس کے بعد اگلے 49 منٹوں میں متاثر ہونے والی ویب سائٹس کا 95 فیصد بحال کر لیا گیا تھا۔ جب کہ اگلے آٹھ گھنٹوں میں ’بگ فکس‘ کر لیا گیا تھا۔