یس امریکہ نو امریکہ: ماریہ میمن کا کالم

پاکستان امریکہ تعلقات میں ایک دفعہ پھر سرگرمی اور جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔ دنیا کی بڑی اور واحد سپر پاور کہلانے کے دعوے دار ملک کے ساتھ پس پردہ معاملات تو چلتے ہی رہتے ہیں مگر تازہ سرگرمیاں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور اس کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں ہیں۔
امریکی افواج کی وطن واپسی سے پاکستان کی لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا ہوئے ہیں ان میں سب سے بڑا چیلنج امریکہ کی فرمائشوں اور توقعات کا ہے۔ 
امریکہ کے ساتھ پاکستان کی آنکھ مچولی وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ سے شروع ہو کر آج تک جاری ہے ۔ ایوب خان جن کے دور کو وزیر اعظم عمران خان سنہری دور قرار دیتے نہیں تھکتے، انہوں نے امریکہ کے بارے میں ‘فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ کی اصطلاح استعمال کی جس کو کسی حد تک اب بھی دونوں ملکوں کی ایک دوسرے کے بارے میں رائے پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ 
مزید پڑھیں
افغان امن عمل اب تقریبا آخری اور فیصلہ کن مراحل میں ہے۔ چار جولائی کو ایک بڑے اعلان کی بھی خبریں ہیں۔ افغانستان کی موجودہ قیادت کے قریب ترین حلقے اس عمل کی سمت اور اس میں شریک فریقوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں مگر امریکہ اس عمل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے۔
یہاں امریکہ کا پاکستان کا نقطہ نظر کہ اس عمل میں تمام فریقوں کو نمائندگی ملنی چاہیے سے اتفاق نظر آتا ہے اس لیے ابھی تک کی پیش رفت اور اہداف پر پاکستان کی طرف یہی کہا جائے گا، یس امریکہ۔ 
افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ، امریکہ کی فوری اور سب سے متنازع فرمائش پاکستان میں فوجی اڈوں اور دیگر تعاون کی ہے۔ پاکستان افغانستان میں کارروائی کے لیے قریب ترین اور سستی ترین آپشن ہے۔
ورنہ دوسرا آپشن وسطی ایشیا کے اڈے ہیں جہاں علیحدہ مقامی پیچیدگیاں ہیں یا پھر قطر اور بحری بیڑے ہیں۔

 افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ، امریکہ کی فوری اور سب سے متنازع فرمائش پاکستان میں فوجی اڈوں اور دیگر تعاون کی ہے (فوٹو: روئٹرز)
وزیراعظم عمران خان کی فوجی اڈوں اور وہاں سے ڈرون حملوں پر پرانی جدوجہد ہے۔ وہ اس پر مارچ بھی کرچکے ہیں اور خود جا کر پشاور میں نیٹو کی سپلائی بھی روک چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ریمنڈ ڈیوس پر استعفی بھی دے چکے ہیں۔ عوامی رائے عامہ بھی اس پر واضح ہے۔ اس لیے اڈوں اور انٹیلیجنس کی موجودگی پر پاکستان کی طرف سے یہی کہا جائے گا، نو امریکہ۔ 
امریکہ کا عالمی سیاسی اور معاشی نظام میں ایک کلیدی کردار ہے۔ آئی ایم ایف، فیٹف اور دو طرفہ معاشی تعاون کے ذریعے امریکی اثرو رسوخ سے پاکستان کے مسائل میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ امریکی کیمپ میں برطانیہ اور یورپ کے امیر ممالک ہیں۔
ان سب پر پاکستان کا کئی حوالوں سے معاشی اور تجارتی انحصار ہے۔ فیٹف کا مسئلہ فوری اور اہم ہے۔ اس سے پیشتر بھی ٹرمپ دور میں وائٹ ہاؤس کو اپنی طرف مائل کرنے کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
اب اگر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری ہوتی ہے اور پاکستان کو اس میں موقع ملتا ہے کہ اس کو فیٹف میں گرے لسٹ سے نکالا جائے  اور ساتھ ہی آئی ایم ایف سے بہتر شرائط ملیں بلکہ اضافی معاشی تعاون بھی میسر ہو تو پاکستان یہی کہے گا، یس امریکہ۔ 
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نیٹو اور جی سیون کے پلیٹ فارم سے واضح طور پر چین کے خلاف ایک نئی سرد جنگ کا عندیہ دے دیا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ یعنی بی آر آئی جس کا سی پیک ایک حصہ ہے، کے مقابلے میں بی 3 ڈبلیو کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف، فیٹف اور دو طرفہ معاشی تعاون  کے ذریعے امریکی اثرو رسوخ سے پاکستان کے مسائل میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
اب امریکہ کی یہی توقع ہو گی کہ پاکستان سی پیک کو الوداع کہ کر اس نئے انتظام کا حصہ بنے ۔پاکستان نہ صرف سی پیک کے پراجیکٹس میں آخری مراحل پر ہے بلکہ اپنے علاقائی اور تاریخی عوامل کی بنیاد پر چین کے ساتھ تعاون جاری رکھنے میں ہی بہتری سمجھتا ہے۔ اس لیے چین کے مقابلے میں کسی گروپ میں شامل ہونے پرپاکستان کی طرف سے یہی رد عمل ہو گا کہ نو امریکہ۔
وزیراعظم عمران خان نے فوجی اڈوں پر اپنا اور اپنی حکومت کا دو ٹوک ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔ سی پیک پر بھی ان کا موقف تقریبا واضح ہے۔ اس کے ساتھ اعلی امریکی عہدیداروں کی حکومت کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کیا وزیراعظم عمران خان کے بے لچک موقف کے پیچھے ابھی تک امریکی صدر کے ساتھ باوجود کوششش براہ راست رابطہ نہ ہونا ہے؟ اور اگر مستقبل میں ان کے موقف میں لچک پیدا ہوئی تو اس کے ملکی سیاست پر اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔
ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز کے اردو ترجمہ کے  لیے عنوان ’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘ چنا گیا۔ یہی عنوان پاکستان امریکہ تعلقات کا آئینہ دار ہے جو یس امریکہ اور نو امریکہ کے بیچ میں گردش کرتے رہتے ہیں۔
جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ یہ حکومت زیادہ یس ہے یا نو۔