یوبی ایل واقعہ، ناقص ڈیزائن شیٹس اکھڑنے کی وجہ بنا،رپورٹ

کراچی میں 18 مئی کو تیز آندھی کے دوران طوفانی ہوائیں چلیں، اس موقع پر شہر کے مختلف علاقوں میں درخت گرنے اور چھتیں اڑنے کے واقعات رونما ہوئے، ایسا ہی ایک واقعہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع یوبی ایل ہیڈ کوارٹر بلڈنگ میں پیش آیا جہاں عمارت کے بیرونی حصے پر نصب ایلومینیم کی کئی شیٹس اور شیشے اکھڑ کر قریبی عمارت اور نیچے کھڑی گاڑیوں پر گر گئے۔

واقعے کے موقع پر شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

ڈسٹرکٹ انتظامیہ جنوبی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کنسلٹنٹ انجینئر وہ لوگ تھے جنہوں نے اس واقعے پر جواب دیا۔

مختیار کار سول لائنز طفیل احمد پتافی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع جنوبی انتظامیہ کی ایک ٹیم نے متاثرہ مقام کا دورہ کرکے واقعے کی شدت کا اندازہ لگایا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے پچھلے حصے میں لگے ایلومینیم شیٹس اور شیشے متاثر ہوئے اور زمین پر گر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے واقعے کے بعد اس احاطے کو عارضی طور پر سیل کردیا تھا تاکہ کسی بھی طرح کا حادثہ رونما نہ ہو۔

واقعے کی دوسری صبح ایس بی سی اے کی انسپکشن ٹیم یو بی ایل ہیڈ کوارٹرز بلڈنگ کا جائزہ لینے کیلئے جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ایس بی سی اے ٹیم کے جائزے اور عمارت کو محفوظ قرار دینے کے بعد احاطے کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

طفیل احمد پتافی کا مزید کہنا تھا کہ عمارت کے متاثرہ حصے کی مرمت کا کام یو بی ایل انتظامیہ اور اس کے انجینئرنگ کنسلٹنٹ کی نگرانی میں جاری ہے۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ انتظامیہ کی جانب سے عمارت کے محفوظ ہونے سے متعلق ایس بی سی اے اور ضلع جنوبی انتظامیہ کو یقین دہانی کا خط پیش کیا گیا جس پر یو بی ایل کارپوریٹ سروسز گروپ کے ہیڈ بریگیڈیئر (ر) ناصر محمود اور ایڈمنسٹریشن ہیڈ کاشف مبین کے دستخط موجود ہیں۔

جس میں کہا گیا ہے کہ طوفان سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے، اس نے عمارت کے پچھلے حصے میں دیواروں پر لگے کچھ ایلومینیم کی چادریں اور شیشے اکھاڑ دیئے، جو زمین پر گر پڑے البتہ عمارت کی ساخت یا میٹیریل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ بینک انجینئرنگ کنسلٹنٹ مسٹر شعیب اسماعیل کے ذریعہ کئے گئے ابتدائی تکنیکی جائزے کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ اور اس میں موجود سہولیات افسران و عوام کے استعمال کیلئے بالکل محفوظ ہیں۔

شعیب اسماعیل جو ایس بی سی اے لائسنس کے حامل انجینئر اور اصل ڈھانچے کے کنسلٹنٹ ہیں، نے ایک تشخیصی رپورٹ تیار کرکے ایس بی سی اے میں جمع کرائی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوا نے بلڈنگ کے بیرونی بالائی حصے میں نصب آؤٹر کلیڈنگ کو کھینچ لیا تھا، ساتھ ہی رپورٹ میں کلیڈنگ کے اکھڑنے کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔

یو بی ایل بلڈنگ میں نصب آؤٹر کلیڈنگ ایلومینیم پینلز سے تیار کی گئی ہیں، جنہیں اسٹیل کے ایک فریم کے ساتھ دیواروں میں لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینل اور کنکریٹ کی دیواروں کے درمیان گیپ کے باعث ہوا کے دباؤ سے اسٹیل اینکرز اور ایلومینیم اینگلز دیواروں سے اکھڑ گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اتنی اونچائی پر کام کرنے والے شخص نے اینکرز کو مناسب طریقے سے اپنی جگہ نصب نہ کیا ہو، یا اینکرز اپنی جگہ پر ٹھیک سے نہ بیٹھ سکے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ چین ری ایکشن کا نتیجہ ہو، جو کراچی میں غیرمعمولی موسم کی صورتحال کے باعث ایلومینیم پینلز کی خرابی کی طرف لے گیا۔

کنسلٹنٹ انجینئر نے بتایا کہ انہوں نے عمارت کے پورے ڈھانچے کی جانچ کی اور اس میں دباؤ کے آثار نہیں ہیں۔

انہوں نے ایس بی سی اے کو بتایا کہ حقائق اور سائٹ کے مشاہدات پر سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ عمارت محفوظ ہے اور اس کو اپنے ڈیزائن کے مطابق دفتری عمارت کے طور پر بدستور استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایس بی سی اے جنوبی کے ڈائریکٹر منیر بھمبرو نے تصدیق کی کہ انہیں انڈر ٹیک اور کنسلٹنٹ انجینئر کی تشخیصی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمارت محفوظ ہے اور ایسا ہی لگتا ہے۔ تاہم ایس بی سی اے انسپکشن ٹیم اپنی تکنیکی تشخیص کی رپورٹ بھی تیار کررہی ہے، جسے پیر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

منیر بھمبرو کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ تھا جس نے عمارت کی ایلومینیم کلیڈنگ کو نقصان پہنچایا نہ کہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو۔

متعلقہ خبریں