یورپ میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجوہات کیا ہیں؟

جرمنی اور مغربی یورپ میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب کی شدت اور وجوہات سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن میں کم از کم 157 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمنی کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ صرف 14 اور 15 جولائی کے درمیان ایک سو سے ڈیڑھ سو ملی میٹر بارش ہوئی جو عموماً دو مہینے کے دوران ہوتی ہے۔
جرمن ہائیڈرو لوجسٹ کائی شروٹر کے مطابق یورپی ممالک میں اس سے پہلے بھی اکثر شدید سیلاب آتے رہے ہیں تاہم حالیہ سیلاب پانی کی مقدار اور شدت کے حوالے سے غیرمعمولی تھے۔
گلوبل وارمنگ
اکثر یورپی سیاستدانوں نے حالیہ تباہ کن سیلابوں کا ذمہ دار گلوبل وارمنگ کو ٹھہرایا ہے جبکہ جرمنی کی دائیں بازو کی جماعتوں کے خیال میں سیلابوں کو بہانہ بناتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے ایجنڈے کو طول دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
ہائیڈرو لوجسٹ کائی شروٹر کے خیال میں فی الحال یہ یقین کے ساتھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حالیہ سیلاب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں آئے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا  ہے جس کے باعث پانی بخارات بن کر اڑ رہا ہے جس سے آب و ہوا میں پانی کے بڑے ذخائر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں شدید بارش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یورپ کے بین الحکومتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلیوں نے بھی کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے باعث موسم میں شدت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
چھوٹے دریاؤں میں تغیانی
حالیہ سیلابوں کے دوران چھوٹے دریاؤں کے قریب واقع علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی مقدار میں اضافے اور سیلاب کی صورت میں کوئی حفاظتی نظام نہ ہونے کے باعث قریبی علاقے زیر آب آگئے تھے۔
سیلاب کے دوران شدید متاثر ہونے والے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا ریجن کے سربراہ آرمن لاسشیٹ کا کہنا ہے کہ یورپ کا مرکزی دریا رائن اور اس سے متصل شہر سیلابوں سے نمٹتے رہتے ہیں تاہم چھوٹے دریاؤں کے قریب واقع قصبوں اور گاؤں سیلاب کے عادی نہیں ہیں۔

یورپ میں آنے والے حالیہ سیلابوں میں کم از کم 157 افراد ہلاک ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی
ہائیڈرولوجسٹ شروٹر کے مطابق جب دریا چوڑے ہوں اور ان میں بہاؤ آہستہ ہو تو پانی کم تیزی سے چڑھتا ہے لہٰذا ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاری کا زیادہ وقت موجود ہوتا ہے۔
عوامی شعور کا فقدان
متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو بروقت نہ نکالنے پر مقامی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہائیڈرولوجی کی پروفیسر حنا کلوک کے مطابق سیلاب کی پیشن گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا تاہم سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاری ناکافی تھی۔
قدرتی آفات سے متعلق سرکاری ایجنسی ’بی بی کے‘ کے سربراہ ارمن شوسٹر کا کہنا ہے کہ چند متاثرین کو خطرات کی شدت کا درست اندازہ نہیں ہوا اور انہوں نے دو بنیادی اصولوں پر عمل نہیں کیا، ایک تو یہ کہ ایسی صورتحال میں تہہ خانے میں نہیں رہنا چاہیے، دوسرا یہ کہ فوری طور پر بجلی کا نظام معطل کر دینا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ کے باعث موسم میں شدت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
ناقص منصوبہ بندی
چند ماہرین نے ناقص شہری منصوبہ بندی اور یورپ کے گنجان آباد علاقوں میں کنکریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے جڑے خطرات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ویسے بھی غیر معمولی طور پر زیادہ بارش ہوتی رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین میں اضافی پانی جذب کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔
جب زمین کو غیرضروری طور پر کنکریٹ سے ڈھک دیا جائے تو زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔