یورپ میں ہر کمپنی کے فون کے لیے ایک ہی چارجر، ’یہ صارفین کے لیے بڑا دن ہے‘

یورپی یونین کے اس قانون کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت تمام سمارٹ فون، ٹیبلٹس اور کیمروں کے لیے ایک ہی قسم کا چارجر لازمی ہوگا۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک ہی قسم کے یو ایس بی (سی ٹائپ) چارجر کو سٹیںڈرڈ قرار دینے والے قانون پر عمل در آمد سنہ 2024 کے اواخر میں ہوگا۔
اس قانون کے حق میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے 602 ارکان نے ووٹ دیے جبکہ 13 نے اس کی مخالفت کی۔
قانون کے لاگو ہونے کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنی آئی فون کو اپنے لائٹننگ پورٹ چارجر کو ختم کرنا پڑے گا۔ یورپ میں سمارٹ فون بنانے والی زیادہ تر کمپنیاں پہلے ہی سٹینڈرڈ سی ٹائپ چارجر استعمال کر رہی ہیں۔
اس قانون کے تحت لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنیوں کو بھی سی ٹائپ چارجر متعارف کرانا ہوگا تاہم اس کے لیے اُن کو مزید مہلت دی گئی ہے اور وہ جنوری 2026 کے بعد اس پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی۔
یورپی یونین کے قانون سازوں کا خیال ہے کہ سنگل چارجر کے قانون سے یورپی شہریوں کی زندگی آسان ہو جائے گی جبکہ خراب ہو جانے والے چارجرز کے بڑھتے ڈھیر اور صارفین کے اخراجات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
یورپی یونین میں مسابقتی ادارے کی سربراہ مارگریتھ ویسٹاگر نے کہا کہ توقع ہے اس قانون سے سالانہ 200 ملین یورو کی بچت کی جا سکے گی اور ایک ہزار ٹن سے زیادہ الیکٹرانک کچرے کو کم کیا جائے گا۔
یورپی یونین کے اس قانون کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کے 27 ملکوں کی 450 ملین آبادی کو دنیا کے سب سے مالدار صارفین میں سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں اس طرح ریگولیٹری فیصلوں کو عالمی انڈسٹری میں روایت شروع کرنے کے مترادف قرار دیا جاتا ہے اور اس کو ’برسلز ایفکٹ‘ کہا جاتا ہے۔

سنگل چارجر قانون کے حق میں یورپین پارلیمنٹ کے 602 ارکان نے ووٹ دیے جبکہ 13 نے اس کی مخالفت کی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
اس معاملے پر یورپین پارلیمنٹ کے مقرر کردہ نمائندے مالتیز الیکس اگیز نے قانون کی منظوری کے بعد کہا کہ ’آج صارفین کے لیے ایک بڑا دن ہے، یہ ماحولیات کے لیے ایک بڑا دن ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد یورپ میں ہر قسم کی الیکٹرانک ڈیوائسز کے لیے سنگل چارجر بالآخر ایک حقیقت بن رہا ہے اور امید ہے کہ ہم باقی دنیا کو بھی اس حوالے سے متاثر کر سکیں گے۔‘