یوکرین کی ’اہم کامیابی‘، روس کے لاجسٹک سینٹر پر قبضے کا دعوٰی

پوتن نے چند روز قبل یوکرین کے کچھ علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

یوکرین نے روس کے فوجی سازوسامان کے مرکز (لاجسٹک سینٹر) پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے جس کو انتہائی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کے علاقے لیمان میں واقع لاجسٹک حب پر قبضے سے یوکرینی فوجیوں کو آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ روس کی سپلائی لائن کو محدود کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
یوکرینی فوج کی اس اہم کامیابی کو روسی صدر پوتن کے لیے جھٹکا بھی قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے جمعے کو یوکرین کے کچھ علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا جن میں سے ایک ڈونیٹسک ہے جہاں لائمن واقع تھے۔
مزید پڑھیں
روس کے وزیر دفاع نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ یوکرینی فوج کی جانب سے ’گھیراؤ کے خطرے کے پیش نظر‘ لائمن کے علاقے سے فوجیں واپس بلا رہے ہیں۔‘
یوکرین کی فوج کا لیمان پر دوبارہ قبضہ ماسکو کی ایک بڑی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔
یوکرین اور مغربی ممالک نے روس کے الحاق کے اعلان کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔
جمعے کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے چار علاقوں کو روس میں ضم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جن میں لوگانسک، ڈونسک، خیرسون اور ژاپوریژیا شامل ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کی شام کو کہا کہ فوجی جوانوں کی کامیابی کا سلسلہ  لیمان کا قبضہ واپس لینے تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوجیوں نے خیرسون کے دو اہم علاقوں ارکن ہلسکے اور مائرولییوکا کو روسی قبضے سے آزاد کروایا ہے۔
یوکرین کی ایجنسی انٹرفیکس نے یوکرینی فوج کے ترجمان سیرہی چیروتائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈونیسک کے ٹورسکے نامی گاؤں کو بھی آزاد کروا لیا گیا ہے جو کہ لیمان سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔‘

یوکرین کے لیمان پر دوبارہ قبضے کو روس کی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
خیال رہے کہ روسی فوج نے مئی میں لیمان پر قبضہ کیا تھا اور اس علاقے کو تب سے قریبی علاقوں میں آپریشن کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں کیئف کی حکومت کو اور مغرب میں اس کے سرپرستوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ لوگانسک، ڈونیسک، خیرسون اور ژاپوریژیا کے لوگ ہمیشہ کے لیے ہمارے شہری بن رہے ہیں۔‘
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر زور دیا کہ وہ تمام فوجی کارروائیوں کو بند کر دے۔
یورپ کے 27 رہنماؤں نے روس پر عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا وہ روس میں یوکرین کے چار علاقوں کی شمولیت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔